حیات طیبہ — Page 461
461 قریب نہ آنے دیا۔مرغ کا گوشت ہر طرح کا آپ کھالیتے تھے سالن ہو یا بھنا ہوا، کباب ہو یا پلاؤ مگر اکثر ایک ران پر ہی گزارہ کر لیتے تھے اور وہی آپ کو کافی ہو جاتی تھی بلکہ کبھی کچھ بیچ بھی رہا کرتا تھا۔پلاؤ بھی آپ کھاتے تھے مگر ہمیشہ نرم اور گداز اور گلے گلے ہوئے چاولوں کا اور میٹھے چاول تو کبھی خود کہہ کر پکوا لیا کرتے تھے مگر گٹر کے اور وہی آپ کو پسند تھے۔عمدہ کھانے یعنی کباب مرغ ، پلاؤ یا انڈے اور اسی طرح فیرینی، میٹھے چاول وغیرہ تب ہی آپ کہہ کر پکوایا کرتے تھے۔جب ضعف معلوم ہوتا تھا۔جن دنوں میں تصنیف کا کام کم ہوتا یا صحت اچھی ہوتی تو ان دنوں میں معمولی کھانا ہی کھاتے تھے اور وہ بھی کبھی ایک وقت ہی صرف اور دوسرے وقت دودھ وغیرہ سے گزارہ کر لیتے۔دودھ، بالائی ، مکھن، یہ اشیاء بلکہ بادام روغن تک صرف قوت کے قیام اور ضعف کے دُور کرنے کو استعمال فرماتے تھے اور ہمیشہ معمولی مقدار میں۔بعض لوگوں نے آپ کے کھانے پر اعتراض کئے ہیں۔مگر ان بیوقوفوں کو یہ خبر نہیں کہ ایک شخص جو عمر میں بوڑھا ہے اور اُسے کئی امراض لگے ہوئے ہیں اور باوجود اس کے وہ تمام جہاں سے مصروف پیکار ہے۔ایک جماعت بنا رہا ہے جس کے فرد فرد پر اس کی نظر ہے۔اصلاح امت کے کام میں مشغول ہے۔ہر مذہب سے الگ الگ قسم کی جنگ ٹھنی ہے۔دن رات تصانیف میں مصروف ہے۔جو نہ صرف اُردو بلکہ فارسی اور عربی میں۔اور پھر وہی اس کو لکھتا اور وہی کا پی دیکھتا، وہی پروف درست کرتا۔اور وہی ان کی اشاعت کا انتظام کرتا ہے۔پھر سینکڑوں مہمانوں کے ٹھہر نے ، اُترنے اور علی حسب مراتب کھلانے کا انتظام ،مباحثات اور وفود کا اہتمام نمازوں کی حاضری مسجد میں روزانہ مجلسیں اور تقریریں، ہر روز بیبیوں آدمیوں سے ملاقات ، اور پھر اُن سے طرح طرح کی گفتگو، مقدمات کی پیروی ، روزانہ سینکڑوں خطوط پڑھنے اور پھر ان میں سے بہتوں کے جواب لکھنے، پھر گھر میں اپنے بچوں اور اہل بیعت کو بھی وقت دینا اور باہر گھر میں بیعت کا سلسلہ اور نصیحتیں اور دُعائیں۔غرض اسقدر کام اور دماغی محنتیں اور تفکرات کے ہوتے ہوئے اور پھر تقاضائے عمر اور امراض کی وجہ سے اگر صرف اس عظیم الشان جہاد کے لئے قوت پیدا کرنے کو وہ شخص بادام روغن استعمال کرے۔کیا وہ نہیں جانتا کہ بادام روغن کوئی مزیدار چیز نہیں اور لوگ لذت کے لئے اس کا استعمال نہیں کرتے پھر اگر مزے کی چیز بھی استعمال کی تو ایسی نیت اور کام کرنے والے کے لئے تو وہ فرض ہے حالانکہ ہمارے جیسے کاہل الوجود انسانوں کے لئے وہی کھانے تعیش میں داخل ہیں۔اور پھر جس وقت دیکھا جائے کہ وہ شخص ان مقوی غذاؤں کو صرف بطور قوت لایموت اور سد رمق کے طور پر استعمال کرتا ہے تو کون عقل کا اندھا ایسا ہوگا کہ اس خوراک کولز اند حیوانی اور حظوظ انسانی سے تعبیر کرے۔خدا تعالیٰ ہر مومن کو بدظنی سے بچائے۔دودھ کا استعمال آپ اکثر رکھتے تھے اور سوتے وقت تو ایک گلاس ضرور پیتے تھے اور دن کو بھی ، پچھلے دنوں