حیات طیبہ — Page 451
451 چہرہ پر یہ بشاشت اور خوشی اور فتح اور طمانیت قلب کے آثار کیونکر ہو سکتے ہیں۔یہ نیک ظاہر کسی بد باطن کے ساتھ وابستہ نہیں رہ سکتا اور ایمان کا نور بدکار کے چہرہ پر درخشندہ نہیں ہوسکتا۔آتھم کی پیشگوئی کا آخری دن آ گیا اور جماعت میں لوگوں کے چہرے پژمردہ ہیں۔اور دل سخت منقبض ہیں۔بعض لوگ نا واقعی کے باعث مخالفین سے اس کی موت پر شرطیں لگا چکے ہیں۔ہر طرف سے اداسی کے آثار ظاہر ہیں۔لوگ نمازوں میں چیخ چیخ کر رور ہے ہیں کہ اے خداوند ہمیں رسوا مت کر یو۔غرض ایسا کہرام مچ رہا ہے کہ غیروں کے رنگ بھی فق ہورہے ہیں ، مگر یہ خدا کا شیر گھر سے نکلتا ہے ہنستا ہوا اور جماعت کے سر برآوردوں کو مسجد میں بلاتا ہے مسکرا تا ہوا۔ادھر حاضرین کے دل بیٹھے جاتے ہیں اُدھر وہ کہ رہا ہے کہ لو پیشگوئی پوری ہو گئی اطلَعَ اللهُ عَلى هَيْهِ وَغمہ۔مجھے الہام ہوا۔اس نے حق کی طرف رجوع کیا۔حق نے اس کی طرف رجوع کیا۔کسی نے اُس کی بات مانی نہ مانی۔اس نے اپنی سنادی اور سننے والوں نے اس کے چہرہ کو دیکھ کر یقین کیا کہ یہ سچاہے ہم کوغم کھارہا ہے اور یہ بے فکر اور بے غم مسکرا مسکرا کر باتیں کر رہا ہے۔اس طرح کہ گویا حق تعالیٰ نے آتھم کے معاملہ کا فیصلہ اس کے اپنے ہاتھ میں دے دیا اور پھر اس نے آتھم کے رجوع اور بیقراری کو دیکھ کر خود اپنی طرف سے مہلت دیدی اور اب اس طرح خوش ہے جس طرح ایک دشمن کو مغلوب کر کے ایک پہلوان۔پھر محض دریادلی سے خود ہی اُسے چھوڑ دیتا ہے کہ جاؤ ہم تم پر رحم کرتے ہیں۔ہم مرے کو مارنا اپنی ہتک سمجھتے ہیں۔لیکھرام کی پیشگوئی پوری ہوئی تو مخبروں نے فوراً اتہام لگانے شروع کئے۔پولیس میں تلاشی کی درخواست کی گئی۔صاحب سپر نٹنڈنٹ پولیس یکا یک تلاشی کے لئے آموجود ہوئے۔لوگ الگ کر دیئے گئے۔اندر کے باہر باہر کے اندر نہیں جا سکتے۔مخالفین کا یہ زور کہ ایک حرف بھی مشتبہ تحریر کا نکلے تو پکڑ لیں۔مگر آپ کا یہ عالم کہ وہی خوشی اور مسرت چہرہ پر ہے۔اور خود پولیس افسروں کو لیجا لیجا کر اپنے بستے اور کتابیں، تحریریں اور خطوط اور کوٹھریاں اور مکان دکھا رہے ہیں۔کچھ خطوط انہوں نے مشکوک سمجھ کر اپنے قبضہ میں بھی کر لئے ہیں مگر یہاں وہی چہرہ ہے اور وہی مسکراہٹ۔گویا نہ صرف بیگناہی بلکہ ایک فتح مبین اور اتمام حجت کا موقعہ نزدیک آتا جاتا ہے۔برخلاف اس کے اور کا باہر جو لوگ بیٹھے ہیں۔ان کے چہروں کو دیکھو۔وہ ہر ایک لنسکیل کو باہر نکلتے اور اندر جاتے دیکھ دیکھ کر سہمے جاتے ہیں۔ان کا رنگ فق ہے۔ان کو یہ معلوم نہیں کہ اندر تو وہ جس کی آبرو کا انہیں فکر ہے۔خود افسروں کو بلا بلا کر اپنے بستے اور اپنی تحریریں دکھلا رہا ہے اور اس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ ایسی ہے جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اب حقیقت پیشگوئی کی پورے طور پر کھلے گی اور میرا دامن ہر طرح کی آلائش اور سازش سے پاک ثابت ہوگا۔غرض یہی حالت تمام مقدمات، ابتلاؤں اور مباحثات میں رہی اور یہ وہ اطمینان قلب کا اعلیٰ اور اکمل نمونہ تھا جسے دیکھ کر بہت سی سعید روحیں ایمان لے آئی تھیں۔