حیات طیبہ — Page 420
420 انہوں نے ڈوئی کی موت کی پیشگوئی کی تھی۔کہ یہ ان کی یعنی مسیح کی زندگی میں واقع ہوگی اور بڑی حسرت اور دکھ کے ساتھ اس کی موت ہوگی۔ڈوئی کی عمر پینسٹھ سال کی تھی اور پیشگوئی کرنے والے کی پچھتر سال کی۔“ اپنے حرم محترم کا احترام حضرت اماں جان اور حضرت اماں سے جی اپنے بچوں کو ہمراہ لیکر حضرت میر ناصر نواب صاحب کیساتھ چند روز کے لئے تبدیلی آب وہوا کی غرض سے لاہور تشریف لے گئیں۔۴ جولائی ۱۹۰۷ ء کو یہ قافلہ لا ہور کی طرف روانہ ہوا اور ۱۴ / جولائی ۱۹۰۷ء کو واپس بٹالہ پہنچا۔حضرت اقدس جو حسن معاشرت کا ایک کامل نمونہ تھے۔اپنے حرم محترم کے استقبال کے لئے چند خدام سمیت عازم بٹالہ ہوئے۔حضور پالکی میں سوار تھے اور قرآن کھول کر سورۃ فاتحہ کی تلاوت فرمارہے تھے۔خدام کا بیان ہے کہ بٹالہ تک حضور سورۃ فاتحہ پر ہی غور وفکر میں مشغول رہے۔رستہ میں صرف نہر پر اتر کر وضو کیا اور پھر وہی سورۃ فاتحہ پڑھنی شروع کر دی۔اللہ اللہ ! کیا عشق تھا خدا کے مامور کو خدا کی کتاب کے ساتھ کہ گیارہ میل کے لمبے سفر میں قرآن کریم کی ایک چھوٹی سی سورۃ ہی زیر غور رہی۔سچ فرمایا آپ نے دل میں یہی ہے ہر دم تیرا صحیفہ بچوموں قرآں کے گرد گھوموں کعبہ مرا یہی ہے جب بٹالہ پہنچے تو بٹالہ کے تحصیلدار رائے جسمل خاں صاحب نے اپنے مکان کے متصل اسٹیشن کے قریب ہی آپ کے لئے ایک آرام دہ جگہ کا انتظام کر دیا اور خود بھی حضرت اقدس کی ملاقات سے شرف یاب ہوئے۔حضرت اقدس نے ان کے اس احسان پر ان کا شکریہ ادا کیا۔دوپہر کا کھانا تناول فرمانے کے بعد حضور اپنے حرمِ محترم کے استقبال کے لئے اسٹیشن پر تشریف لے گئے۔آپ کے اسٹیشن پر پہنچنے سے پہلے گاڑی آچکی تھی اور حضرت اماں جان آپ کو تلاش کر رہی تھیں چونکہ ہجوم بہت زیادہ تھا۔اس لئے تھوڑی دیر تک آپ انہیں نظر نہیں آسکے۔پھر جب آپ پر نظر پڑی تو محمود کے ابا کہہ کر آپ کو اپنی طرف متوجہ کیا۔اس پر حضرت اقدس آگے بڑھے اور اپنی زوجہ محترمہ سے مصافحہ کیا۔اس کے بعد حضور واپس اپنی فرودگاہ پر تشریف لائے اور دو پہر کا وقت گذار کر پچھلے پہر عازم قادیان ہوئے اور شام کے قریب بخیریت پہنچ گئے۔حرم حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ