حیات طیبہ — Page 417
417 اعلان شائع کر دیا تھا۔” تازہ نشان کی پیشگوئی“ خدا فرماتا ہے کہ میں ایک تازہ نشان ظاہر کروں گا۔جس میں فتح عظیم ہوگی۔وہ عام دنیا کے لئے ایک نشان ہوگا (یعنی ظہور اس کا صرف ہندوستان تک محدود نہیں ہوگا۔ناقل ) اور خدا کے ہاتھوں سے اور آسمان سے ہوگا۔چاہئے کہ ہر ایک آنکھ اُس کی منتظر رہے۔کیونکہ خدا اس کو عنقریب ظاہر کریگا۔تا وہ یہ گواہی دے کہ یہ عاجز جس کو تمام قو میں گالیاں دے رہی ہیں۔اس کی طرف سے ہے۔مبارک وہ جو اس سے فائدہ اُٹھا دے۔آمین المشتہر مرزا غلام احمد مسیح موعود ( مشتهر ه ۲۰ فروری ۱۹۰۷ء) ڈوئی کی موت پر حضرت اقدس کے تاثرات حضرت اقدس کو جب ڈوئی کی اس طرح حسرت ناک موت کا علم ہوا تو آپ نے اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک عظیم الشان معجزہ قراردیا۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں: اب ظاہر ہے کہ ایسا نشان ( جو فتح عظیم کا موجب ہے ) جو تمام دنیا ایشیا اور امریکہ اور یورپ اور ہندوستان کے لئے ایک کھلا کھلا نشان ہو سکتا ہے۔وہ یہی ڈوئی کے مرنے کا نشان ہے۔کیونکہ اور نشان جو میری پیشگوئیوں سے ظاہر ہوئے ہیں وہ تو پنجاب اور ہندوستان تک ہی محدود تھے اور امریکہ اور یورپ کے کسی شخص کو ان کے ظہور کی خبر نہ تھی لیکن یہ نشان پنجاب سے بصورت پیشگوئی ظاہر ہوکر امریکہ میں جا کر ایسے شخص کے حق میں پورا ہوا۔جس کو امریکہ اور یورپ کا فردفرد جانتا تھا اور اس کے مرنے کے ساتھ ہی بذریعہ تاروں کے اس ملک کے انگریزی اخباروں کو خبر دی گئی۔چنانچہ پایونیر نے ( جوالہ آباد سے نکلتا ہے) پر چہ اار مارچ ۱۹۰۷ء میں اور سول اینڈ ملٹری گزٹ نے (جو لا ہور سے نکلتا ہے ) پر چہ ۱۲ مارچ ۱۹۰۷ء میں اور انڈین ڈیلی ٹیلیگراف نے / (جولکھنو سے نکلتا ہے ) پر چہ ۱۲ مارچ ۹۷! ء میں اس خبر کو شائع کیا ہے۔پس اس طرح پر قریباً تمام دنیا میں یہ خبر شائع کی گئی۔اور خود یہ شخص اپنی دنیوی حیثیت کی رُو سے ایسا تھا کہ عظیم الشان نوابوں اور شہزادوں کی طرح مانا جاتا تھا۔چنانچہ وب نے جو امریکہ میں مسلمان ہو گیا ہے۔میری طرف اس کے بارہ میں ایک چٹھی لکھی تھی کہ ڈاکٹر ڈوئی اس ملک میں نہایت معزز انہ اور شہزادوں کی طرح زندگی بسر کرتا ہے اور باوجود اس عزت اور شہرت کے جو امریکہ اور یورپ میں اس کو حاصل تھی۔خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ ہوا کہ میرے مباہلہ کا مضمون اس کے مقابل پر امریکہ کے