حیات طیبہ — Page 418
418 بڑے بڑے نامی اخباروں نے جو روزانہ ہیں شائع کر دیا اور تمام امریکہ اور یورپ میں مشہور کر دیا۔اور پھر اس عام اشاعت کے بعد جس ہلاکت اور تباہی کی اس کی نسبت پیشگوئی میں خبر دی گئی تھی وہ ایسی صفائی سے پوری ہوئی کہ جس سے بڑھ کر اکمل اور اتم طور پر ظہور میں آنا متصور نہیں ہو سکتا۔اس کی زندگی کے ہر ایک پہلو پر آفت پڑی۔اس کا خائن ہونا ثابت ہوا۔اور وہ شراب کو اپنی تعلیم میں حرام قرار دیتا تھا۔مگر اس کا شراب خوار ہونا ثابت ہو گیا۔اور وہ اُس اپنے آباد کردہ شہر میحون سے بڑی حسرت کے ساتھ نکالا گیا۔جس کو اس نے کئی لاکھ روپیہ خرچ کر کے آباد کیا تھا اور نیز سات کروڑ نقد روپیہ سے جو اس کے قبضہ میں تھا اس کو جواب دیا گیا اور اس کی بیوی اور اس کا بیٹا اس کے دشمن ہو گئے اور اُس کے باپ نے اشتہار دیا کہ وہ ولد سلم الزنا ہے۔پس اس طرح پر وہ قوم میں ولد الزنا ثابت ہوا اور یہ دعویٰ کہ میں بیماروں کو معجزہ سے اچھا کرتا ہوں۔یہ تمام لاف و گزاف اس کی محض جھوٹی ثابت ہوئی اور ہر ایک ذلّت اس کو نصیب ہوئی اور آخر کار اس پر فالج گرا اور ایک تختہ کی طرح اس کو چند آدمی اُٹھا کر لے جاتے رہے اور پھر بہت غموں کے باعث پاگل ہو گیا اور حواس بجا نہ رہے اور یہ دعویٰ اس کا کہ میری ابھی بڑی عمر ہے اور میں روز بروز جوان ہوتا جاتا ہوں اور لوگ بڑھے ہوتے جاتے ہیں۔محض فریب ثابت ہوا۔آخر کار مارچ ۱۹۰۷ء کے پہلے ہفتہ میں ہی بڑی حسرت اور در داور دُکھ کے ساتھ مر گیا۔اب ظاہر ہے کہ اس سے بڑھ کر اور کیا معجزہ ہوگا۔چونکہ میرا اصل کام کسر صلیب ہے۔سواس کے مرنے سے ایک بڑا حصہ صلیب کا ٹوٹ گیا۔کیونکہ وہ تمام دنیا سے اول درجہ پر حامی صلیب تھا۔جو پیغمبر ہونے کا دعویٰ کرتا تھا اور کہتا تھا کہ میری دُعا سے تمام مسلمان ہلاک ہو جائیں گے اور اسلام نابود ہو جائے گا اور خانہ کعبہ ویران ہو جائے گا۔سوخدا تعالیٰ نے میرے ہاتھ پر اس کو ہلاک کیا۔میں جانتا ہوں کہ اس کی موت سے پیشگوئی قتل خنزیر والی بڑی صفائی سے پوری ہوگئی۔کیونکہ ایسے شخص سے زیادہ خطر ناک کون ہو سکتا ہے کہ جس نے جھوٹے طور پر پیغمبری کا دعوی کیا۔اور خنزیر کی طرح جھوٹ کی نجاست کھائی اور جیسا کہ وہ خود لکھتا ہے۔اس کیساتھ ایک لاکھ کے قریب ایسے لوگ ہو گئے تھے جو بڑے مالدار تھے بلکہ سچ یہ ہے کہ مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی کا وجود اس کے مقابل پر کچھ بھی چیز نہ تھا۔نہ اس کی طرح شہرت ان کی تھی اور نہ اس کی طرح لے ان امور کی تفصیل کے لیے دیکھئے ڈاکٹر ڈوئی کا عبرت ناک انجام