حیات طیبہ — Page 398
398 سعد اللہ والانشان حضرت اقدس کی اپنی زبانی۔نومبر ۱۹۰۶ ء ذیل میں ہم قارئین کرام کی تقویت ایمان کے لئے حضرت اقدس کی کتاب حقیقۃ الوحی کے آخری حصہ یعنی الاستفتا“ سے حضور کی عربی عبارت کا ترجمہ درج کرتے ہیں۔اس عبارت میں حضور نے سعد اللہ کے لا ولد مر نے کی خبر کو تفصیل کے ساتھ شائع فرمایا ہے۔حضور فرماتے ہیں: کئی ایذا رسانوں کی ایذا کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعہ سے بعض نشانات دکھائے۔ایسے لوگوں کا ذکر ہم نے طالبانِ حق کی بصیرت کی غرض سے حقیقۃ الوحی میں کیا ہے اور ایک قسم کا تازہ واقعہ ایک شخص کی ہلاکت کا ہے جو ابھی ماہ ذی قعدہ ۱۳۲۴ھ میں واقع ہوا ہے۔ایک شخص میرے متعلق سخت بدزبانی سے کام کیا کرتا تھا اور مجھ پر لعنتیں بھیجا کرتا تھا اس کا نام سعد اللہ ( لدھیانوی) تھا۔شخص اپنی بدزبانی سے نیزہ کی طرح سخت زخم پیدا کرتا تھا۔جب اس شخص کی بدزبانی اپنی انتہا کو پہنچ گئی اور وہ ایذارسانی میں سب سے آگے بڑھ گیا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کے جلد ہلاک ہونے اور ذلیل اور رسوا اور ابتر ہونے کے متعلق اپنی قضا و قدر سے آگاہی بخشی اور اُس کے متعلق فرمایا۔إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الابتر - یعنی تیرا یہ ثمن منقطع النسل اور نا کام و نامرادر ہے گا۔چنانچہ میں نے اس وحی الہی کو لوگوں میں شائع کر دیا اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی اس وحی الہی کی سچائی کو جو اُس نے مجھے الہام کی تھی۔ظاہر کر دیا اور اپنے فرمودہ کو پورا کر دیا۔اس لئے میں نے چاہا کہ اسے تفصیل سے بیان کر کے لوگوں میں اس کی اشاعت کروں لیکن ایک وکیل نے جو میری جماعت میں شامل تھا۔مجھے اس کی اشاعت سے روکا اور اس کے متعلق بہت خوف اور خطرہ کا اظہار کیا۔اور کہا کہ اس کی اشاعت کی صورت میں یہ معاملہ ضرور حکام تک پہنچے گا اور اس وقت قانون کی زد اور سزا سے بچنے کی کوئی صورت نہیں ہوگی اور مصائب کا ایک ختم نہ ہونے والا سلسلہ شروع ہو جائے گا اور مقدمہ کی سخت مصیبت اُٹھانے کے بعد اس کا جو نتیجہ ہوگا وہ ظاہر ہے اور ایسی صورت میں حکومت ضرور سزا دیگی اس لئے بہتری اس میں ہے کہ احتیاط سے کام لے کر اس وحی کا اختفاء کیا جائے۔میں نے اسے کہا کہ میرے نزدیک تو راہ صواب لے یہی سعد اللہ لدھیانوی تھا جس کی اس قسم کی بد زبانیوں کے جواب میں آخر ڈاکٹر سرمحمد اقبال کو جو اس زمانہ میں مرے کالج سیالکوٹ میں ہوتے تھے۔ایک طویل نظم لکھنا پڑی جس کا پہلا شعر یوں ہے۔۔سعد یا بس دیکھ لی گندہ دہانی آپ کی مہتروں میں خوب ہوگی قدر دانی آپ کی ے یہ وکیل خواجہ کمال الدین صاحب تھے۔دیکھئے مجد داعظم حصہ دوم صفحہ ۱۱۲۴