حیات طیبہ

by Other Authors

Page 399 of 492

حیات طیبہ — Page 399

399 یہی ہے کہ الہام الہی کی تعظیم کو مقدم کیا جائے اور اس کا اخفاء میرے نزدیک اللہ تعالیٰ کی معصیت میں داخل اور ایک کمینہ فعل ہے اور خدا تعالیٰ کے سوا کسی کی طاقت نہیں کہ ضرر پہنچا سکے۔اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے بعد میں حکام کی تہدید سے نہیں ڈرتا۔ہاں ہم اللہ تعالیٰ کی جناب میں جو فضل و کرم کا منبع ہے۔دعا کریں گے کہ وہ ہمیں ہر ایک مصیبت اور فتنہ سے محفوظ رکھے اور اگر قضا وقدر میں یہی لکھا ہے کہ یہ مصیبت ہم پر آئے۔تو ہم اس ذلت والی زندگی پر ہی راضی ہیں۔اور میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ اس شریر انسان کو مجھ پر مسلط نہیں کرے گا اور اُسے کسی آفت میں مبتلا کر کے اپنے اس بندہ کو جو اس کے حضور پناہ کا طالب ہے۔اس کے شر سے محفوظ رکھے گا۔جب میری یہ بات میرے یکتا مخلص فاضل ماہر علوم دین مولوی حکیم نورالدین صاحب نے سنی۔تو اُن کی زبان پر حدیث رُبِّ اَشْعَت آغبر جاری ہوئی اور میرے جواب کوشن کر اور نیز مولوی صاحب سے یہ حدیث سُن کر جماعت کے لوگوں کو اطمینان حاصل ہو گیا۔اور انہوں نے اس وکیل کو جس نے مجھے ڈرایا تھا۔غلطی خوردہ قرار دیا اور اس کی تخویف کو بیج سمجھا۔اس کے بعد میں نے دو تین روز تک سعد اللہ کی موت کے لئے خدا تعالیٰ کی جناب میں دُعائیں کیں۔جس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھ پر یہ وحی نازل کی کہ رُبّ اشْعَت أَغْبَرَ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللهِ لَأَبَرِّهُ یعنی بعض لوگ جو عوام کی نظروں میں پراگندہ نمو اور غبار آلود ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے حضور وہ مقام رکھتے ہیں۔کہ اگر وہ کسی بات کے متعلق قسم کھالیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم کو ضرور پورا کر دیتا ہے اور اس سے مراد یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کے شرسے تمہیں محفوظ کرے گا سو مجھے اللہ تعالیٰ کی قسم ہے کہ ابھی چند ہی روز گذرے تھے کہ اس کی ہلاکت کی خبر آگئی۔1 اخبار شھ جنگ کے مالک اور ایڈیٹر کی ہلاکت ! حضرت اقدس کی بعثت کا مقصد چونکہ دینِ حق کی اشاعت تھا جو عیسائیوں اور آریوں کو ایک آنکھ نہ بھاتا تھا۔کیونکہ یہ تو میں تو سمجھتی تھیں کہ اگر اس شخص کا وجود نہ ہوتا تو ہندوستان کے مسلمانوں کو ہم تھوڑے عرصہ کے اندر ہی عیسائی یا آریہ بنالیتے۔اسوجہ سے یہ لوگ آپ کے شدید دشمن تھے۔اس موقعہ پر ہم قادیان کی آریہ سماج کا ذکر کرنا چاہتے ہیں۔ان لوگوں نے اپنی عداوت کو انتہا تک پہنچانے کا ایک طریقہ یہ اختیار کیا کہ ۱۹۰۶ء میں قادیان سے ایک اخبار شجھ چنگ نام شائع کرنا شروع کیا اور اس اخبار میں حضرت اقدس اور آپ کی جماعت کے خلاف وہ جھوٹا ل الاستفتا صفحه ۳۵-۳۶ ترجمه از عربی