حیات طیبہ

by Other Authors

Page 339 of 492

حیات طیبہ — Page 339

339 احمدیوں کو شہید کر کے خدا تعالیٰ کے غضب کو اور بھی بھڑکا دیا تو ایک نہایت ہی معمولی شخص بچہ سقہ نے اس خاندان کے آخری امیر امان اللہ خاں پر چڑھائی کر کے انہیں ملک سے نکال دیا اور وہ آج تک اٹلی میں کسی ہوٹل کے مالک کی حیثیت سے زندگی کے بقیہ ایام گزار رہے ہیں۔فاعتبروا یا اولی الابصار۔قبولیت دعا کا ایک معجزانہ واقعہ ۱/۲۵ اکتوبر ۱۹۰۳ء حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں: ”ہمارے مکرم خانصاحب محمد علی خاں صاحب کا چھوٹا لڑکا عبدالرحیم سخت بیمار ہو گیا۔چودہ روز تک ایک ہی تپ لازم حال رہا اور اس پر حواس میں فتور اور بیہوشی رہی۔آخر نوبت احتراق تک پہنچ گئی۔۔۔۔۔حضرت خلیفۃ اللہ علیہ السلام کو ہر روز دُعا کے لئے توجہ دلائی جاتی تھی اور وہ کرتے تھے۔۱۲۵ اکتوبر کو حضرت اقدس کی خدمت میں بڑی بیتابی سے عرض کی گئی کہ عبدالرحیم کی زندگی کے آثارا اچھے نظر نہیں آتے۔حضرت رؤف رحیم تہجد میں اس کے لئے دعا کر رہے تھے کہ اتنے میں خدا کی طرف سے آپ پر کھلا۔تقدیر مبرم ہے اور ہلاکت مقدر ہے۔“ فرمایا۔جب خدا تعالیٰ کی یہ قہری وحی نازل ہوئی۔تو مجھ پر حد سے زیادہ حُزن طاری ہوا۔اس وقت بے اختیار میرے منہ سے نکل گیا کہ یا الہی! اگر یہ دُعا کا موقعہ نہیں تو میں شفاعت کرتا ہوں۔اس کا موقع تو ہے۔اس پر معاوحی نازل ہوئی۔يُسَبِّحُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ ( یعنی آسمانوں اور زمین کی سب مخلوق اس کی تسبیح کرتی ہے۔کون ہے جو اُس کے اذن کے بغیر اس کے حضور شفاعت کرے۔ناقل ) اس جلالی وحی سے میرا بدن کانپ گیا اور مجھ پر سخت خوف اور ہیبت طاری ہوئی کہ میں نے بلالاذن شفاعت کی ہے۔ایک دومنٹ کے بعد پھر وحی ہوئی۔إِنَّكَ أَنتَ الْمَجَارُ یعنی تجھے اجازت ہے۔اس کے بعد حالاً بعد حال عبدالرحیم کی صحت ترقی کرنے لگی اور اب ہر ایک جو دیکھتا اور پہچانتا تھا۔اسے دیکھ کر خدا تعالیٰ کے شکر سے بھر جاتا اور اعتراف کرتا کہ لاریب مُردہ زندہ ہوا ہے۔لے مراد نواب محمد علی خان صاحب۔ناقل البدر جلد ۲ نمبر ۴۲،۴۱ مورخه ۲۹/اکتوبر ۱۹۰۳ء