حیات طیبہ

by Other Authors

Page 336 of 492

حیات طیبہ — Page 336

336 لگے۔اور کوئی حاضرین میں سے ایسا نہ تھا جس نے اس شہید پر پتھر نہ پھینکا ہو۔یہاں تک کہ کثرت پتھروں سے شہید مرحوم کے سر پر ایک کوٹھا پتھروں کا جمع ہو گیا۔پھر امیر نے واپس ہونے کے وقت کہا کہ یہ شخص کہتا تھا کہ میں چھ روز تک زندہ ہوجاؤں گا۔اس پر چھ روز تک پہرہ رہنا چاہئے۔بیان کیا گیا ہے کہ یہ ظلم یعنی سنگسار کرنا ۱۴ جولائی (۱۹۰۳ء) کو وقوع میں آیا۔۔۔۔۔۔شاہزادہ عبداللطیف کے لئے جو شہادت منقذ رتھی۔وہ ہو چکی۔اب ظالم کا پاداش باقی ہے۔۔۔۔۔۔اے عبداللطیف تیرے پر ہزاروں رحمتیں کہ تو نے میری زندگی میں ہی اپنے صدق کا نمونہ دکھایا۔اور جو لوگ میری جماعت میں سے میری موت کے بعد رہیں گے میں نہیں جانتا کہ وہ کیا کام کریں گے۔“ حضرت اقدس صاحبزادہ صاحب شہید کے بقیہ حالات بیان کرتے ہوئے اپنی کتاب ”تذکرۃ الشہادتین“ کے آخر میں بیان فرماتے ہیں: ”میاں احمد نور جو حضرت صاحبزادہ مولوی عبداللطیف کے خاص شاگرد ہیں۔آج ۸ /نومبر ۱۹۰۳ ء کو مع عیال خوست سے قادیان پہنچے۔ان کا بیان ہے کہ مولوی صاحب کی لاش برابر چالیس دن تک ان پتھروں میں پڑی رہی جن میں وہ سنگسار کئے گئے تھے۔بعد اس کے میں نے چند دوستوں کے ساتھ مل کر رات کے وقت ان کی نعش مبارک نکالی اور ہم پوشیدہ طور پر شہر میں لائے اور اندیشہ تھا کہ امیر اور اس کے ملازم کچھ مزاحمت کریں گے۔مگر شہر میں وبائے ہیضہ اس قدر پڑ چکی تھی کہ ہر ایک شخص اپنی بلا میں گرفتار تھا۔اس لئے ہم اطمینان سے مولوی صاحب مرحوم کا قبرستان میں جنازہ لے گئے اور جنازہ پڑھ کر وہاں دفن کر دیا۔یہ عجیب بات ہے کہ مولوی صاحب جب پتھروں سے نکالے گئے تو کستوری کی طرح ان کے بدن سے خوشبو آتی تھی۔اس سے لوگ بہت متاثر ہوئے۔“ اس ناحق خون کا نتیجہ حضرت اقدس نے اپنی اسی کتاب ”تذکرۃ الشہادتین میں ایک جگہ لکھا ہے کہ: اور کابل کی زمین دیکھ لے گی کہ یہ خون کیسے کیسے پھل لائے گا۔یہ خون کبھی ضائع نہیں جائے گا۔پہلے اس سے غریب عبد الرحمن میری جماعت کا ظلم سے مارا گیا اور خدا چپ رہا۔مگر اس خون پر اب وہ چپ نہیں رہے گا اور بڑے بڑے نتائج ظاہر ہوں گے۔چنانچہ سنا گیا ہے کہ جب شہید