حیات طیبہ — Page 328
328 عذرات غلط۔یہ کہ کو مولوی کرم دین کو پہچاس روپے جرمانہ اور بصورت عدم ادائیگی جرمانہ دو ماہ قید محض اور فقیرمحمد ایڈیٹر سراج الاخبار کو چالیس روپے جرمانہ کیا گیا اور بصورت عدم ادا ئیگی جرمانہ ڈیڑھ ماہ قید محض۔اس کے بعد انہوں نے حضرت اقدس اور حضرت حکیم مولوی فضل الدین صاحب کو اندر بلایا اور پولیس کو جو ڈیوٹی پر تھی۔یہ تاکید کر دی کہ سوائے ملزمان کے اور کسی کو اندر نہ آنے دیا جائے اور جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے۔اُن کا خیال یہ تھا کہ جرمانہ کی ادائیگی کے لئے بہر حال کچھ وقت لگے گا۔اور میں فیصلہ ہی ایسے وقت میں سناؤں گا کہ فیصلہ سناتے سناتے عدالت کا وقت ختم ہو جائے اور بعد میں جرمانہ ادا کرنے کے لئے کچھ وقت باقی ہی نہ رہے۔اور ان کو کم از کم تیسرے روز تک دو دن کے لئے تو ضرور ہی جیل خانہ میں رہنا پڑے۔چنانچہ انہوں نے پونے چار بجے فیصلہ سنانا شروع کیا۔آپ کے وکیل خواجہ کمال الدین صاحب حوائج ضروریہ سے فارغ ہونے کے لئے گئے ہوئے تھے۔وہ عین اس وقت واپس آئے جس وقت حضرت اقدس اور حضرت حکیم صاحب کمرہ عدالت میں داخل ہو رہے تھے۔وہ بھاگ کر عدالت کے کمرہ کی طرف بڑھے۔جب دروازہ پر پہنچے تو دوسپاہیوں نے انہیں اندر داخل ہونے سے روکا۔خواجہ صاحب ان دونوں سپاہیوں کو دھکیل کر یہ کہتے ہوئے اندر داخل ہو گئے کہ میں اندر کیسے نہ جاؤں میں تو ملزمان کا وکیل ہوں۔جب کمرہ کے اندر داخل ہوئے تو مجسٹریٹ صاحب فیصلہ سنا رہے تھے اور اپنی سوچی سمجھی تجویز کے مطابق انہوں نے فیصلہ بڑالمبالکھا ہوا تھا۔کیونکہ ان کا خیال تھا کہ ادھر فیصلہ ختم ہو گا۔اُدھر عدالت کا وقت ختم ہو جائے گا۔پھر اگر جرمانہ ادا بھی کیا گیا تو میں قبول نہیں کروں گا اور کہوں گا کہ پرسوں ادا کرو۔خدا کی قدرت ! کہ ادھر انہوں نے یہ کہا کہ مرزا غلام احمد کو پانچ سوروپے جرمانہ اور حکیم فضل الدین کو دوسو روپے اور بصورت عدم ادا ئیگی چھ چھ ماہ قید محض۔اُدھر خواجہ کمال الدین صاحب نے فوراً ایک ہزار روپے کے نوٹ جیب سے نکال کر مجسٹریٹ صاحب کی میز پر رکھ دیئے۔لے اور کہا کہ صاحب! یہ ہزار روپیہ کے نوٹ ہیں ان میں سے جرمانہ کی رقم سات سو روپے وصول کر لیجئے۔ایسا نہ ہو کہ بعد میں آپ کہیں کہ اب وقت نہیں رہا۔مجسٹریٹ صاحب یہ ٹن کر ہکا بکا رہ گئے۔کیونکہ ان کا سارا منصوبہ خاک میں ملتا نظر آتا تھا۔مگر کر کچھ نہیں سکتے تھے۔ناچار نوٹوں کی طرف نگاہ کی۔جب انہوں نے دیکھا کہ نوٹوں پر لاہور یا کلکتہ نہیں لکھا ہوا۔بلکہ کراچی اور مدراس لکھا ہوا ہے تو ان کے چہرہ پر کچھ رونق آ گئی اور انہوں نے ایک داؤ کھیلا۔اور وہ یہ کہ اس زمانہ میں عام طور پر پنجاب میں صرف وہی نوٹ لئے جاتے تھے جن پر لاہور یا کلکتہ لکھا ہوا ہوتا تھا۔کراچی اور مدراس والے نوٹ نہیں لئے جاتے تھے۔مگر سر کاری خزانوں میں ل چونکہ اس امر کی توقع تھی کہ حضرت اقدس اور حضرت حکیم صاحب پر کافی جرمانہ کیا جائے گا اس لئے حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے فیصلہ سے ایک روز قبل ہی نوسور و پیہ حضرت اقدس کی خدمت میں بھیج دیا تھا اس میں ایک سوروپیہ اور شامل کر کے خواجہ صاحب کو ایک ہزار روپیہ دے دیا گیا تھا کیونکہ خیال یہ تھا کہ پانچ پانچ سوروپیہ جرمانہ کیا جائے گا۔حضرت شیخ یعقوب علی صاحب تراب کا بیان ہے کہ ایک ہزار روپی اور بھی احتیاطاً محفوظ رکھا گیا تھا کیونکہ مجسٹریٹ صاحب شدید دشمن تھے اور ڈر تھا کہ جرمانہ ہزار ہزار روپیہ نہ کر دیا جائے۔دیکھئے اصحاب احمد جلد دوم صفحہ ۴۶۲، ۴۶۳