حیات طیبہ

by Other Authors

Page 316 of 492

حیات طیبہ — Page 316

316 نہیں کہ اکثر آدمیوں کے کچل جانے اور یقیناً کئی ایک کے کٹ جانے کا اندیشہ تھا۔مرزا صاحب 66 کے دیکھنے کے لئے ہندو اور مسلمان یکساں شوق سے موجود تھے۔“ ۱۸ جنوری کو حضور جہلم سے لاہور پہنچے اور ۱۹ جنوری ۱۹۰۳ء کو واپس دارالامان پہنچ گئے۔مولوی کرم الدین کی نگرانی کی درخواست کا فیصلہ حضرت اقدس کی واپسی کے بعد مولوی کرم الدین نے لالہ سنسار چند مجسٹریٹ درجہ اول کے فیصلہ کے خلاف سیشن جج جہلم کی عدالت میں نگرانی کی درخواست کی۔جس کی سماعت کے لئے ۱۵ مئی ۱۹۰۳ ء کی تاریخ مقررہ ہوئی۔تاریخ مقررہ پر حضرت شیخ یعقوب علی صاحب تراب اور حضرت مولوی حکیم فضل دین صاحب بھیروی معہ وکلاء پہنچ گئے۔مقدمہ پیش ہوا۔فریقین کی بحث سننے کے بعد سیشن جج نے فیصلہ سنانے کے لئے ۲۹ تاریخ مقرر کی۔چنانچہ اس تاریخ کو سیشن جج نے بھی وہ نگرانی خارج کر دی۔فالحمد للہ علی ذلک۔مولوی کرم الدین کے خلاف تین استفاثے چونکہ مولوی کرم الدین صاحب کے مقدموں کا ذکر ہو رہا ہے۔اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ بعد کے مقدمات کا بھی اسی موقعہ پر ذکر کر دیا جائے۔مولوی کرم الدین نے سراج الاخبار جہلم میں مورخہ ۱/۶ اکتوبر اور ۱۳ /اکتوبر ۱۹۰۲ء میں حضرت اقدس کی شان کے خلاف بعض مضامین لکھے تھے اور یہ بھی لکھا تھا کہ میری میرزا صاحب کے ساتھ ہرگز کوئی خط و کتابت نہیں ہوئی۔جو خط میری طرف منسوب کر کے حکم میں شائع کئے گئے ہیں وہ میرے لکھے ہوئے نہیں ہیں۔اس لئے حضرت اقدس نے چاہا کہ بذریعہ عدالت یہ فیصلہ کرایا جائے کہ آیا یہ نوٹ جو محمدحسن فیضی متوفی نے کتاب اعجاز امسیح اور شمس بازغہ پر لکھے تھے اور جن کو چرا کر پیر مہرعلی شاہ صاحب گولڑوی نے اپنی کتاب سیف چشتیائی کی رونق بڑھائی تھی اُن کے اپنے ہاتھ کے لکھے ہوئے ہیں یا نہیں؟ اور آیا یہ خطوط جو مولوی کرم الدین اس بارہ میں قادیان لکھتار ہا یہ جعلی ہیں یا اصلی؟ چنانچہ ۱۴ نومبر ۱۹۰۳ء کو لالہ گنگا رام مجسٹریٹ درجہ اول گورداسپور کی عدالت میں مولوی کرم الدین کے خلاف تین استفاثے دائر کئے گئے۔ا۔ایک استغاثہ حضرت مولوی حکیم فضل الدین صاحب بھیروی کی طرف سے مولوی کرم الدین کے خلاف دغا کا تھا کہ اگر اس کا یہ بیان صحیح ہے جو اس نے سراج الاخبار میں چھپوایا ہے تو اس نے ہمیں دغا دی ہے۔۲۔دوسرا استغاثہ بھی انہی کی طرف سے تھا کہ میرے مطبع سے ایک ایسی کتاب کے اوراق حاصل کر لینا جو