حیات طیبہ — Page 284
284 پانچواں باب تصنیف ”ایک غلطی کا ازالہ سفر دہلی اور واپسی اشتہار ایک غلطی کا ازالہ ۵ رنومبر ۱۹۰۱ء اب ہم ایک ایسے مسئلہ کے متعلق حضرت اقدس کا نقطہ نظر واضح کرتے ہیں۔جس کی بناء پر جماعت احمدیہ کا ایک نہایت ہی قلیل حصہ سواد اعظم سے اختلاف کر کے مدت ہوئی خلافت ثانیہ کے انتخاب کے موقعہ پر ۱۹۱۴ء میں علیحدگی اختیار کر چکا ہے اور وہ مسئلہ یہ ہے کہ حضرت اقدس کا مقام اور منصب کیا تھا؟ اور یہ کہ آیا شروع دعوی سے لے کر آخر وقت تک آپ اپنے منصب کو ایک ہی نام سے یا دفرماتے رہے ہیں یا ایک وقت کے بعد آپ نے اپنے منصب و مقام کا نام رکھنے میں تبدیلی کا اظہار فرمایا ہے۔سو جماعت کے سوادِ اعظم کا مسلک حضرت اقدس کی اپنی تحریرات کی بناء پر یہ ہے کہ بیشک الہامات الہیہ میں تو آپ کو شروع ہی سے نبی ورسول کے الفاظ سے مخاطب کیا جاتا رہا ہے، لیکن نبی ورسول کی مشہور عام تعریف کی رُو سے آپ ایک زمانہ تک ان الفاظ کی تاویل کر کے اپنے آپ کو محدث کہتے رہے ہیں، لیکن جب آپ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس امر کی وضاحت کر دی گئی کہ نبی کے جو معنی امت محمدیہ میں عام طور پر مشہور ہیں وہ صحیح اور درست نہیں ہیں تو آپ نے اپنے سابقہ مسلک کو بدل کر اپنے آپ کو زمرہ انبیاء میں شامل قرار دیا۔لیکن جس گروہ نے ۱۹۱۴ء میں خلافت ثانیہ کے انتخاب کے موقعہ پر جماعت کے سوادِ اعظم سے علیحدگی اختیار کر لی تھی اس کا مؤقف یہ ہے کہ حضرت اقدس نے کبھی نبوت ورسالت کا دعوی نہیں کیا بلکہ آپ ہمیشہ اس سے انکار کرتے اور اسے کفر قرار دیتے رہے ہیں۔آپ کا دعویٰ ابتداء ہی سے محدث ہونے کا تھا جو آخر وقت تک قائم رہا اور کبھی آپ نے اُسے ترک نہیں فرمایا۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت اقدس مسئلہ نبوت کے انکشاف سے پہلے الہامی الفاظ نبی ورسول کی تاویل کر کے اپنے آپ کو محدث سمجھتے تھے اور یہ تھا بھی بالکل درست و بجا۔وجہ یہ تھی کہ نبی کی تعریف اس وقت یہ سمجھی جاتی تھی کہ : اسلام کی اصطلاح میں نبی اور رسول کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ وہ کامل شریعت لاتے ہیں۔یا بعض احکام شریعت سابقہ کو منسوخ کرتے ہیں یا نبی سابق کی اُمت نہیں کہلاتے اور براہ راست بغیر استفادہ کسی نبی کے خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتے ہیں۔“ 1 ل مکتوب حضرت اقدس مندرجہ اخبار الحکم ۱۷ اگست ۱۸۹۹ء