حیات طیبہ

by Other Authors

Page 276 of 492

حیات طیبہ — Page 276

276 جب یہ ساری کارروائی منصہ شہود پر آگئی تو اس سے پیر صاحب کی شہرت علمی وعملی کا پردہ بالکل چاک ہو گیا اور انہوں نے مولوی کرم الدین صاحب کی اپنے مریدوں کے ذریعہ مخالفت شروع کر دی۔مولوی کرم الدین صاحب جو ایک کمزور طبیعت کے آدمی تھے۔انہوں نے خیر اسی میں سمجھی کہ اپنے خطوط کا انکار ہی کر دیں۔چنانچہ انہوں نے ” سراج الاخبار، جہلم مورخہ ۶ اکتوبر ۱۹۰۲ ء اور ۱۳ / اکتوبر ۱۹۰۲ء میں یہ شائع کروایا کہ یہ خطوط جعلی اور بناوٹی ہیں۔جیسا کہ آگے چل کر ظاہر ہوگا۔یہ خطوط بڑی لمبی مقدمہ بازی کا موجب ہوئے۔۱۹۰۱ء کی مردم شماری اور جماعت کا نام ”مسلمان فرقہ احمد یہ رکھا جانا گورنمنٹ کی طرف سے یہ اعلان ہو چکا تھا کہ اگلے سال یعنی 1901 ء میں تمام ہندوستان کی مردم شماری کروائی جائیگی اور حضرت اقدس نے ابھی تک اپنی جماعت کا کوئی نام تجویز نہیں فرمایا تھا۔لوگ ”مرزائی“ اور قادیانی“ وغیرہ ناموں کے ساتھ آپ کی جماعت کو پکارا کرتے تھے۔اس لئے حضور نے ضروری سمجھا کہ جماعت کا کوئی موزوں نام رکھ دیا جائے چنانچہ آپ نے اپنی جماعت کا نام ”مسلمان فرقہ احمد یہ رکھا۔حضور ایک اشتہار میں اس نام کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اور اس فرقہ کا نام ”مسلمان فرقہ احمد یہ اس لئے رکھا گیا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دو نام تھے۔ایک محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔دوسرا احمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اسم محمد جلالی نام تھا اور اس میں مخفی پیشگوئی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان دشمنوں کو تلوار کے ساتھ سزا دینگے جنہوں نے تلوار کے ساتھ اسلام پر حملہ کیا۔اور صد ہا مسلمانوں کو قتل کیا۔لیکن اسم احمد جمالی نام تھا جس سے یہ مطلب تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں آشتی اور صلح پھیلائیں گے۔سوخدا نے ان دو ناموں کی اس طرح پر تقسیم کی کہ اول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ کی زندگی میں اسم احمد کاظہور تھا اور ہر طرح سے صبر اور شکیبائی کی تعلیم تھی اور پھر مدینہ کی زندگی میں اسم محمد کا ظہور ہوا۔اور مخالفوں کی سرکوبی خدا کی حکمت اور مصلحت نے ضروری سمجھی ،لیکن یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ آخری زمانہ میں پھر اسم احمد ظہور کرے گا۔اور ایسا شخص ظاہر ہوگا جس کے ذریعہ سے احمدی صفات یعنی جمالی صفات ظہور میں آئیں گی اور تمام لڑائیوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔پس اسی وجہ سے مناسب معلوم ہوا کہ اس فرقہ کا نام فرقہ احمد یہ رکھا جائے۔“ لے دیکھئے اشتہار ۴ نومبر ۱۹۰۰ ء مندرجه تبلیغ رسالت جلد نهم صفحه ۹۱ ۲ تبلیغ رسالت جلد نهم صفحه ۹۱