حیات طیبہ — Page 275
275 مکرم معظم بندہ جناب حکیم صاحب مدظلہ العالی السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ !۳۱ جولائی کو لڑ کاٹے گھر پہنچ گیا۔اس وقت سے کارِ معلومہ کی نسبت اس سے کوشش شروع کی گئی۔پہلے تو کتابیں دینے سے اس نے سخت انکار کیا اور کہا کہ کتابیں جعفر زٹلی کی ہیں اور وہ مولوی محمد حسن مرحوم کا خط شناخت کرتا ہے اور اس نے بتاکید مجھے کہا ہے کہ فورا کتا میں لا ہور زٹلی کے پاس پہنچادوں لیکن بہت سی حکمت عملیوں اور طمع دینے کے بعد اس کو تسلیم کرایا گیا۔مبلغ چھ روپیہ معاوضہ پر آخر راضی ہوا اور کتاب اعجاز مسیح کے نوٹوں کی نقل دوسرے نسخہ پر کر کے اصل کتاب جس پر مولوی مرحوم کی اپنی قلم کے نوٹ ہیں ہمدست حامل عریضہ ابلاغ خدمت ہے۔کتاب وصول کر کے اس کی رسید حامل عریضہ کو مرحمت فرما دیں اور نیز اگر موجود ہوں تو چھ روپے بھی حامل کو دیدیجئے گا۔تاکہ لڑکے کو دے دیئے جاویں اور تا کہ دوسری کتاب شمس بازغہ کے حاصل کرنے میں دقت نہ ہو۔کتاب شمس بازغہ کا جس وقت بے جلد نسخہ آپ روانہ فرمائیں گے۔فورا اصل نسخہ جس پر نوٹ ہیں اسی طرح روانہ خدمت ہو گا۔آپ بالکل تسلی فرما دیں۔انشاء اللہ تعالیٰ ہرگز وعدہ خلافی نہ ہوگی۔۔۔۔۔اُمید ہے کہ میری یہ نا چیز خدمت حضرت مرزا صاحب اور آپ کی جماعت قبول فرما کر میرے لئے دعائے خیر فرمائیں گے لیکن میرا التماس ہے کہ میرا نام بالفعل ہرگز ظاہر نہ کیا جاوے۔“ بعد میں چھ روپئے اور دے کر حضرت حکیم فضل دین صاحب نے دوسری کتاب بھی حاصل کر لی اور جب یہ سارا مواد حضرت اقدس کی خدمت میں پہنچ گیا تو چونکہ اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم الشان نشان اس سے ظاہر ہوتا تھا۔یعنی پیر مہر علی شاہ صاحب کی علمی پردہ دری ہوتی تھی اس لئے حضور نے اُسے شائع فرما دیا اور اس بات کی ہرگز پروانہ کی که مولوی کرم الدین صاحب کی پیر صاحب کے مرید مخالفت کریں گے۔چنانچہ حضور لکھتے ہیں: مولوی کرم الدین صاحب کو سہوا اس طرف خیال نہیں آیا کہ شہادت کا پوشیدہ کرنا سخت گناہ ہے جس کی نسبت آیم قلبہ کا قرآن شریف میں وعید موجود ہے۔لہذا تقویٰ یہی ہے کہ کسی کوم لائم کی پروا نہ کریں اور شہادت جو اپنے پاس ہو ادا کریں۔سو ہم اس بات سے معذور ہیں جو جرم اخفا کے ممد و معاون بنیں اور مولوی کرم الدین صاحب کا یہ اخفا خدا کے حکم سے نہیں ہے صرف دلی کمزوری ہے۔خدا ان کو قوت دے۔،، لے یعنی محسن تونی کالڑکا (ناقل) سے نقل خط مولوی کرم الدین بنام حضرت حکیم فضلدین صاحب مرحوم نزول اسے حاشیہ صفحہ ۷۹،۷۸ سے حاشیہ نزول المسیح صفحہ ۷۷