حیات طیبہ — Page 268
268 ' آج میرے دل میں ایک تجویز اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈالی گئی۔جس کو میں اتمام حجنت کے لئے پیش کرتا ہوں اور یقین ہے کہ پیر مہر علی صاحب کی حقیقت اس سے کھل جائے گی۔کیونکہ تمام دنیا اندھی نہیں ہے۔انہی میں وہ لوگ بھی ہیں جو کچھ انصاف رکھتے ہیں اور وہ تدبیر یہ ہے کہ آج میں ان متواتر اشتہارات کا جو پیر مہر علی شاہ صاحب کی تائید میں نکل رہے ہیں۔یہ جواب دیتا ہوں کہ اگر در حقیقت پیر مہر علی شاہ صاحب علم معارف قرآن اور عربی کی ادب اور فصاحت اور بلاغت میں یگانہ روزگار ہیں تو یقین ہے کہ اب تک وہ طاقتیں ان میں موجود ہونگی کیونکہ لاہور آنے پر ابھی کچھ بہت زمانہ نہیں گذرا۔اس لئے میں یہ تجویز کرتا ہوں کہ میں اسی جگہ بجائے خود سورۃ فاتحہ کی عربی فصیح میں تفسیر لکھ کر اس سے اپنے دعوی کو ثابت کروں اور اس کے متعلق معارف اور حقائق سورۃ مدوحہ کے بھی بیان کروں۔اور حضرت پیر صاحب میرے مخالف آسمان سے آنے والے مسیح اور خونی مہدی کا ثبوت اس سے ثابت کریں اور جس طرح چاہیں سورۃ فاتحہ سے استنباط کر کے میرے مخالف عربی فصیح وبلیغ میں براہین قاطعہ اور معارف ساطعہ تحریر فرماویں۔یہ دونوں کتابیں دسمبر ۱۹۰۰ء کی پندرہ تاریخ سے ستر دن تک چھپ کر شائع ہو جانی چاہئیں۔تب اہل علم خود مقابلہ اور موازانہ کرلیں گے اور اگر اہل علم میں سے تین گس جو ادیب اور اہلِ زبان ہوں اور فریقین سے کچھ تعلق نہ رکھتے ہوں۔قسم کھا کر کہہ دیں کہ پیر صاحب کی کتاب کیا بلاغت اور فصاحت کی رُو سے اور کیا معارف قرآنی کی رُو سے فائق ہے تو میں عہد صحیح شرعی کرتا ہوں کہ پانسور و پیه نقد بلا توقف پیر صاحب کی نذر کرونگا اور اس صورت میں اس کوفت کا بھی تدارک ہو جائے گا جو پیر صاحب سے تعلق رکھنے والے ہر روز بیان کر کے روتے ہیں کہ ناحق پیر صاحب کو لاہور آنے کی تکلیف دی گئی۔اسی اشتہار میں آگے چل کر حضور لکھتے ہیں کہ : ” ہم ان کو اجازت دیتے ہیں کہ وہ بے شک اپنی مدد کے لئے مولوی محمد حسین بٹالوی اور مولوی عبدالجبار غزنوی اور محمد حسن بھیں وغیرہ کو بلا لیں۔بلکہ اختیار رکھتے ہیں کہ کچھ طمع دے کر دو چار عرب کے ادیب بھی طلب کر لیں۔فریقین کی تفسیر چار جزو سے کم نہیں ہونی چاہئے اور اگر میعاد مجوزه تک یعنی ۱۵ار دسمبر ۱۹۰۰ ء سے لے کر ۲۵ فروری ۱۹۰۱ ء تک جوستر دن ہیں۔فریقین میں سے کوئی فریق تفسیر سورۃ فاتحہ چھاپ کر شائع نہ کرے اور یہ دن گذر جائیں تو وہ جھوٹا سمجھا جائے گا له از اشتهار ۱۵ دسمبر ۰ ۱۹۰ء