حیات طیبہ

by Other Authors

Page 234 of 492

حیات طیبہ — Page 234

234 نے مباہلہ کر لیا اور اس مباہلہ کا کھلا کھلا اثر سال بھر کے اندر ظاہر نہ ہو گیا تو مولوی محمد حسین صاحب کو مبلغ دو ہزار پانچ سو پچیس روپئے آٹھ آنے کی رقم بطور انعام دی جائے گی۔مولوی صاحب موصوف اگر چاہیں تو ہم ان کے اطمینان کے لئے بعد منظوری مباہلہ یہ رقم تین ہفتہ کے اندر اندر انجمن حمایت اسلام لاہور یا بنگال بنک میں جمع کرا دیں گے۔لو مولوی ابوالحسن نیتی اور جعفر زٹلی کے اشتہارات اس اشتہار کے جواب میں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے دوشاگردوں اعنی مولوی ابوالحسن صاحب تیتی اور مولوی محمد بخش صاحب جعفر زٹلی نے علی الترتیب ۳۱ اکتوبر ۱۸۹۸ ء اور ۱۰/ نومبر ۱۸۹۸ء کو حضرت اقدس کے خلاف دو اشتہار شائع کئے جن میں لغویات کے سوا کام کی کوئی بات نہیں تھی۔حضرت اقدس کی دعا۔۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء حضرت اقدس نے مذکورہ بالا دونوں اشتہارات پڑھ کر ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء کو اللہ تعالیٰ کے حضور یہ دعا کی: ”اے میرے ذوالجلال پروردگار ! اگر میں تیری نظر میں ایسا ہی ذلیل اور جھوٹا اور مفتری ہوں۔جیسا کہ محمد حسین بٹالوی نے اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ میں بار بار مجھ کو کذاب اور دجال اور مفتری کے لفظ سے یاد کیا ہے اور جیسا کہ اُس نے اور محمد بخش جعفر زٹلی اور ابوالحسن تبتی نے اس اشتہار میں جو ۱۰ر نومبر ۱۹۹۸ء کو چھپا ہے۔میرے ذلیل کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا۔تو اے میرے مولی ! اگر میں تیری نظر میں ایسا ہی ذلیل ہوں تو مجھے پر تیرہ ماہ کے اندر یعنی ۱۵ / دسمبر ۱۸۹۸ء سے لے کر ۱۵؍ جنوری ۱۹۰۰ ء تک ذلت کی مار وارد کر اور ان لوگوں کی عزت اور وجاہت ظاہر کر۔اور اس روز کے جھگڑے کا فیصلہ فرما لیکن اگر اے میرے آقا! اے میرے مولا! میرے منعم ! میری ان نعمتوں کے دینے والے جو تو جانتا ہے اور میں جانتا ہوں۔تیری جناب میں میری کچھ عزت ہے تو میں عاجزی سے دُعا کرتا ہوں کہ ان تیرہ مہینوں میں جو ۱۵ / دسمبر ۱۸۹۸ء سے ۱۵/ جنوری ۱۹۰۰ ء تک شمار کئے جائیں گے۔شیخ محمد حسین اور جعفر زٹلی اور تبتی مذکورہ کو جنہوں نے میرے ذلیل کرنے کے لئے یہ اشتہار لکھا ہے۔ذلت کی مار سے دنیا میں رسوا کر “ ضمیمہ تبلیغ رسالت جلد ہفتم صفحه ۷۹ ۸۰