حیات طیبہ — Page 218
218 غلام احمد (صاحب) قادیانی نے مجھے امرتسر اس لئے بھیجا ہے کہ تا میں ڈاکٹر مارٹن کلارک کو پتھر مار کر ہلاک کر دوں۔عبدالحمید اس پر آمادہ ہو گیا۔پادری صاحب اس کو ساتھ لے کر امرتسر کے ڈپٹی کمشنر اے ای مارٹینو صاحب کی عدالت میں پہنچے۔عبدالحمید نے ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک کی حسب منشاء بیان لکھوایا اور بعد میں ڈاکٹر صاحب نے اپنا بیان قلمبند کرایا۔دونوں کے بیانات لینے کے بعد ڈ پٹی کمشنر امرتسر نے مورخہ یکم اگست ۱۸۹۷ء کو حضرت اقدس کے نام وارنٹ گرفتاری جاری کر دیا۔جس کے ساتھ چالیس ہزار روپیہ کی ضمانت کا حکم اور میں ہزار کا مچلکہ تھا، لیکن خدا تعالیٰ کی قدرت کہ وہ وارنٹ کئی دن گزرنے کے باوجود گورداسپور نہ پہنچ سکا۔نہ معلوم کہا غائب ہو گیا۔ادھر عیسائی حضرات اور مخالف مولوی ہر روز اس نظارہ کو دیکھنے کے لئے امرتسر کے سٹیشن پر جاتے تھے کہ مرزا صاحب کے ہاتھ میں ہتھکڑی لگی ہوگی اور پولیس کی حراست میں ریل گاڑی سے اترینگے۔ایک ہفتہ کے بعد یعنی ۷ اگست ۱۸۹۷ء کو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ امرتسر کو اپنی غلطی کا احساس ہوا کہ انہیں قانون کے ماتحت کسی دوسرے ضلع کے باشندہ کے نام وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا اختیار ہی حاصل نہیں۔اس پر انہوں نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گورداسپور کو تار دیا کہ اس وارنٹ کی تعمیل روک دی جائے جو میں نے یکم اگست ۱۸۹۷ء کو بھیجا تھا اس پر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گورداسپور اور ضلع کے دوسرے حکام سخت حیران ہوئے کہ کب ایسا وارنٹ آیا تھا کہ تا اس کی تعمیل روک دی جائے آخر تار داخل دفتر کیا گیا اور بعد اس کے اس مقدمہ کی مسل منتقل ہو کر ڈپٹی کمشنر گورداسپور کے پاس آگئی۔ڈپٹی کمشنر گورداسپور کے دل میں اللہ تعالیٰ نے بات ڈال دی کہ یہ مقدمہ مشتبہ ہے۔اس پر باوجود ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک اور ان کے وکیل کے بہت اصرار اور ہاتھ پیر مارنے کے انہوں نے حضرت اقدس کے نام وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی جگہ سمن جاری کر دیا جس میں ۱۰ اگست ۱۸۹۷ء کو بٹالہ آنے کی تاکید کی گئی تھی۔تاریخ مقررہ پر حضرت اقدس بٹالہ تشریف لے گئے اور حضرت اقدس کے روبرو ہی اس روز ڈاکٹر مارٹن کلارک کا بیان ہوا۔انہوں نے اپنے بیان میں کوئی نئی بات نہیں کہی بلکہ وہی پہلا بیان جو ڈ پٹی کمشنر امرتسر کے سامنے دے چکے تھے دو ہرا دیا۔۱۲ / اور ۱۳ اگست کو بھی ڈاکٹر صاحب ہی کا بیان ہوا۔لے بیان عبد الحمید اسی روز عبدالحمید کا بھی بیان ہوا۔اس نے بھی اپنا امرتسر والا بیان ہی دو ہرا دیا، مگر اس دفعہ اس کے بیان میں تفصیلات اور تشریحات زیادہ تھیں۔بیان دینے کے بعد عیسائیوں نے عبدالحمید سے کہلوایا کہ چونکہ مجھے اپنی جان کا اندیشہ ہے اس لئے مجھے ڈاکٹر ہنری کلارک کے پاس ہی رہنے کی اجازت دی جائے۔لے یہ سارے بیانات حضرت اقدس کی تصنیف ”کتاب البریہ میں موجود ہیں۔