حیات طیبہ

by Other Authors

Page 217 of 492

حیات طیبہ — Page 217

217 چوتھا باب از مقدمه اقدام قتل تاظهور طاعون مقدمۂ اقدام قتل منجانب پادری ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک یکم اگست ۱۸۹۷ء حضرت اقدس کی بعثت کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد کسر صلیب تھا اور اس کے لئے آپ کوئی موقعہ بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے ۱۸۹۳ء میں امرتسر کے مقام پر ڈپٹی عبد اللہ آتھم کے ساتھ آپ کا مشہور مباحثہ ہوا جو جنگ مقدس کے نام سے مشہور ہے اس مباحثہ میں ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک نے بھی اہم حصہ لیا تھا۔اس مباحثہ کے بعد جب عبد اللہ آتھم شرط رجوع سے فائدہ اُٹھانے کے بعد مر گئے۔تو پادریوں پر یہ امر نہایت شاق گزرا اور اس پر سب سے زیادہ غم و غصہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک ہی کو تھا۔وہ اس فکر میں رہتے تھے کہ کوئی نہ کوئی صورت ایسی نکل آئے۔جس سے حضرت اقدس کو نقصان پہنچے۔چنانچہ آریوں کے مشہور لیڈر پنڈت لیکھرام کے قتل ہونے پر جہاں آریوں میں اشتعال عظیم پھیل گیا۔وہاں ڈاکٹر کلارک صاحب کو بھی ایک موقعہ ہاتھ لگا اور دونوں گروہ حضرت اقدس کو نقصان پہنچانے کے لئے متفق و متحد ہو گئے۔عبدالحمید کا فتنہ حضرت مولوی غازی برہان الدین صاحب جہلمی کا ایک آوارہ گرد بھتیجا عبدالحمید نام تھا۔اس کو مذہب سے تو کوئی تعلق نہیں تھا، لیکن دنیوی فوائد حاصل کرنے کے لئے وہ مذہب تبدیل کرتا رہتا تھا۔اتفاقاً ۱۸۹۷ء میں وہ قادیان پہنچ گیا۔بیعت کرنے کی ہر چند کوشش کی لیکن اس میں اُسے کامیابی حاصل نہیں ہو سکی اور حضرت اقدس نے اپنے نور فراست سے اس کے قادیان میں قیام کو بھی گوارانہ فرمایا اور وہ قادیان سے رخصت کر دیا گیا۔چنانچہ وہ قادیان سے نکل کر سیدھا امرتسر پہنچا۔پہلے تو پادری ایچ جی گرے صاحب کے پاس گیا۔مگر انہوں نے اس کو آوارہ گرد سمجھ کر اپنے پاس جگہ نہ دی۔پھر وہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک کے پاس پہنچا۔ڈاکٹر صاحب نے اس سے یہ معلوم کر کے کہ وہ سیدھا قادیان سے امرتسر آیا ہے اس کی آمد کو بسا غنیمت خیال کیا اور جو منصوبہ حضرت اقدس کے خلاف ان کے ذہن میں گزرا تھا۔اس کو بروئے کار لانے کے لئے اپنے ماتحت دیسی پادریوں سے بات چیت کی اور عبدالحمید کو لالچ اور خوف دلا کر آمادہ کر لیا کہ وہ عدالت میں میرے ساتھ چل کر یہ بیان دے کہ (حضرت ) مرزا