حیات طیبہ

by Other Authors

Page 1 of 492

حیات طیبہ — Page 1

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيم 1 نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ b پہلا باب پیدائش سے لیکر ارادہ تصنیف براہین احمدیہ تک حضرت اقدس کا خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اہل فارس کی مشہور قوم بر لاس کے ساتھ تعلق رکھتے تھے۔اس قوم کے مورث اعلیٰ قرا چار نامی نے جو چھٹی صدی ہجری میں گذرے ہیں۔اسلام قبول کیا تھا۔قرا چار نے جو چغتائی کے وزیر اور ایک مشہور سپہ سالار تھے۔اپنی قوم کو سمر قند کے جنوب کی طرف تخمینا تین میل کے فاصلہ پر شہر کش کے گردو نواح میں آباد کیا تھا۔اس کے پوتے بر قال کے ہاں دو بیٹے ہوئے۔ایک کا نام طرافے اور دوسرے کا نام حاجی برلاس تھا۔مشہور ایرانی بادشاہ تیمور کے صاحبقران طرافے کا بیٹا تھا۔کش کی حکومت حاجی بر لاس کے حصہ میں تھی۔لیکن جب حاجی صاحب کے بھتیجے تیمور نے زور پکڑا۔تو حاجی بر لاس اس علاقہ سے نکلنے پر مجبور ہو گئے۔اس وقت کی تاریخ سے جو جغرافیائی کیفیت معلوم ہوتی ہے اس سے پتہ لگتا ہے کہ تمام علاقہ جو والگا سے بحیرہ فارس تک اور افغانستان و بلوچستان سے بخارا تک پھیلا ہوا ہے۔فارس کہلاتا تھا۔بلکہ بقول بعض اکثر حصہ افغانستان و بلوچستان موجودہ اور دریائے گنگا کے منبع سے شمالی علاقہ جو کاشغر کی طرف پھیلا ہوا ہے اس میں داخل تھا اور کش بھی انہی حدود کے اندر ہے لیکن خلفائے عباسیہ کے زمانہ میں یہ علاقہ ماوراء النہر کا ایک حصہ شمار ہوتا تھا۔کے مرزا ہادی بیگ جب کش کی حکومت سے تیمور نے اپنے چچا حاجی برلاس کو نکال دیا تو انہوں نے خراسان میں پناہ لی اور وہیں فوت ہو گئے۔تیمور نے بعد ازاں خراسان کا علاقہ فتح کر کے اپنے چا کی اولاد کو جاگیر میں دیدیا۔اس لئے انہوں نے وہاں ہی رہائش اختیار کر لی۔مگر کچھ عرصہ بعد اس خاندان کے ایک بزرگ مرزا ہادی بیگ صاحب اپنے کنبے کے تمام افراد کولیکر دوبارہ اپنے آبائی وطن علاقہ سمرقند واپس آگئے اور کچھ مدت وہاں رہنے کے بعد نہ معلوم کن وجوہ کی بناء پر اپنے وطن عزیز کو لے حکومت مغلیہ کے بانی ظہیر الدین بابر بادشاہ کے مورث اعلی سے انجم الثاقب جلد ۲ صفحہ ۱۸۲