حیات طیبہ

by Other Authors

Page 196 of 492

حیات طیبہ — Page 196

196 سواب اٹھو اور مباہلہ کے لئے تیار ہو جاؤ۔تم سُن چکے ہو کہ میرا دعویٰ دو باتوں پر مبنی تھا۔اوّل نصوص قرآنیه و حدیثیہ پر۔دوسرے الہامات الہی پر۔سو تم نے نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کو قبول نہ کیا اور خدا کی کلام کو یوں ٹال دیا جیسا کہ کوئی تنکا توڑ کر پھینک دے۔اب میرے بناء دعویٰ کا دوسرا شق باقی رہا۔سو میں اس قادر غیور کی آپ کو قسم دیتا ہوں جس کی قسم کو کوئی ایماندار نہیں کر سکتا کہ اب اس دوسری بناء کے تصفیہ کے لئے مجھ سے مباہلہ کرلو۔اور یوں ہوگا کہ تاریخ اور مقام مباہلہ کے مقرر ہونے کے بعد میں ان تمام الہامات کے پرچہ کو جو لکھ چکا ہوں اپنے ہاتھ میں لے کر میدان مباہلہ میں حاضر ہوں گا اور دُعا کروں گا کہ یا الہی ! اگر یہ الہامات جو میرے ہاتھ میں ہیں میرا ہی افترا ہے اور تو جانتا ہے کہ میں نے ان کو اپنی طرف سے بنالیا ہے۔یا اگر یہ شیطانی وساوس ہیں اور تیرے الہام نہیں تو آج کی تاریخ سے ایک برس گذرنے سے پہلے مجھے وفات دے یا کسی عذاب میں مبتلا کر کہ جو موت سے بدتر ہو اور اس سے رہائی عطا نہ کر جب تک کہ موت آجائے تا میری ذلّت ظاہر ہو اور لوگ میرے فتنہ سے بچ جائیں کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ میرے سبب سے تیرے بندے فتنہ اور ضلالت میں پڑیں اور ایسے مفتری کا مرنا ہی بہتر ہے۔لیکن اے خدائے علیم وخبیر! اگر تو جانتا ہے کہ یہ تمام الہامات جو میرے ہاتھ میں ہیں تیرے ہی الہام ہیں اور تیرے ہی منہ کی باتیں ہیں تو ان مخالفوں کو جو اس وقت حاضر ہیں ایک سال کے عرصہ تک نہایت سخت دکھ کی مار میں مبتلا کر کسی کو اندھا کر دے اور کسی کو مجذوم اور کسی کو مفلوج اور کسی کو مجنون اور کسی کو مصروع اور کسی کو سانپ یاسگ دیوانہ کا شکار بنا اور کسی کے مال پر آفت نازل کر اور کسی کی جان پر اور کسی کی عزت پر۔اور جب میں یہ دعا کر چکوں تو دونوں فریق کہیں۔کہ آمین۔ایسا ہی فریق ثانی کی جماعت میں سے ہر ایک شخص جو مباہلہ کے لئے حاضر ہو۔جناب الہی میں یہ دعا کرے کہ اے خدائے علیم وخبیر! ہم اس شخص کو جس کا نام غلام احمد ہے درحقیقت کذاب اور مفتری اور کافر جانتے ہیں۔پس اگر یہ شخص در حقیقت کذاب اور مفتری اور کافر اور بے دین ہے اور اس کے یہ الہام تیری طرف سے نہیں بلکہ اپنا ہی افترا ہے تو اس امتِ مرحومہ پر یہ احسان کر کہ اس مفتری کو ایک سال کے اندر ہلاک کر دے تالوگ اس کے فتنہ سے امن میں آجائیں اور اگر یہ مفتری نہیں اور تیری طرف سے ہے اور یہ تمام الہام تیرے ہی منہ کی پاک باتیں ہیں تو ہم پر جو اس کو کا فروکڈ اب سمجھتے ہیں۔دُکھ اور ذلت سے بھرا ہوا عذاب ایک برس کے اندر نازل کر اور کسی کو اندھا کر دے اور کسی کو مجذوم اور کسی