حیات طیبہ

by Other Authors

Page 180 of 492

حیات طیبہ — Page 180

180 ابن ماجہ۔مؤطا۔نسائی۔ابوداؤد۔دار قطنی۔بشرطیکہ ان کی کوئی حدیث قرآن کریم اور صحیحین یعنی بخاری و مسلم کے خلاف نہ ہو۔آریوں اور عیسائیوں کو بھی آپ نے لکھا کہ آپ لوگ بھی اپنی مسلّمہ مقبولہ کتب کی فہرست شائع کر دیں اور فریقین اس امر کی پابندی کریں کہ کوئی ایسا اعتراض ایک دوسرے پر نہ کریں جس کا ثبوت وہ ان کتب سے مہیا نہ کر سمیں۔ظاہر ہے کہ مذہبی فسادات کو روکنے کے لئے یہ ایک نہایت ہی معقول تجویز تھی۔آپ نے ہزاروں مسلمانوں کے دستخطوں سے گورنمنٹ آف انڈیا کی خدمت میں ایک میموریل بھی بھیجا۔مگر افسوس کہ اُس وقت گورنمنٹ نے اس طرف توجہ نہ کی۔البتہ اس کے بہت سالوں کے بعد یہ قانون پاس کیا گیا کہ کسی مذہب کے بانی کو گالی دینا یا اس کی ہتک کرنا قانون کی رو سے جُرم ہے۔سفر ڈیرہ بابا نانک۔۳۰ ستمبر ۱۸۹۵ء قریباً ۱۸۷۲ء کی بات ہے کہ حضرت اقدس علیہ السلام نے باوا نا نک رحمتہ اللہ علیہ کو دو مرتبہ خواب میں دیکھا ، ان سے باتیں بھی کیں اور انہوں نے اقرار کیا کہ میں مسلمان ہوں اور اسی چشمہ سے پانی پیتا ہوں۔جس سے آپ پیتے ہیں۔حضرت اقدس فرماتے ہیں کہ مجھے اپنی ذات میں تو یقین تھا کہ باوانا نک مسلمان تھے۔لیکن چونکہ لوگوں کے سامنے پیش کرنے کے لئے کوئی ثبوت نہیں تھا اس لئے میں خاموش تھا۔مگر ایک لمبے عرصہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایسے ثبوت مہیا کر دیے جن سے یہ امر حق الیقین تک پہنچ گیا کہ آپ مسلمان تھے۔ذیل میں صرف دو ثبوتوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔اول۔یہ بات بہت مشہور تھی کہ حضرت باوا نا نک رحمتہ اللہ علیہ کے پاس ایک چولہ تھا جو انہیں آسمان سے ملا تھا وہ چولہ ڈیرہ باوا نا نک ضلع گورداسپور میں کابلی مل کی اولاد کے قبضہ میں تھا اور اس کی زیارت کرنے کے لئے بڑی بڑی دُور سے سکھ سردار آیا کرتے تھے اور سکھوں کو جب کبھی کوئی مشکل پیش آتی تھی۔اس چولہ کو سر پر رکھ کر دعائیں کرتے اور وہ مشکل حل ہو جاتی۔چولہ صاحب کی اس تعریف کو سُن کر حضرت اقدس کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ اس چولہ کو ضرور دیکھنا چاہئے۔چنانچہ آپ استخارہ مسنونہ کے بعد ۳۰ ستمبر ۱۸۹۵ ء کو پیر کے دن صبح اپنے چند احباب کے ساتھ جن کے نام درج ذیل ہیں۔ڈیرہ باوانا نک کی طرف روانہ ہوئے۔ا۔حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ ۲۔حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی ۴- جناب منشی غلام قادر صاحب فصیح