حیات طیبہ — Page 170
170 نے پوچھا کہ کہو جناب مرزا صاحب کو کیسا پاتے ہو؟ میں کیا جواب دیتا۔میرے تو ہوش دنگ ہو گئے تھے۔۱۸۸۷ء میں جن مرزا صاحب کو دیکھا تھا یہ وہ نہ تھے۔آواز ونقشہ تو وہی تھا لیکن گل بات ہی بدلی ہوئی تھی۔اللہ اللہ ! سر سے پاؤں تک ایک ٹور کے پہلے نظر آتے تھے۔جو لوگ مخلص ہوتے ہیں اور اخیر رات کو اُٹھ کر اللہ کی جناب میں رویا دھویا کرتے ہیں ان کے چہروں کو بھی اللہ اپنے نور سے رنگ دیتا ہے اور جن کو کچھ بھی بصیرت ہے وہ اس نور کو پرکھ لیتے ہیں، لیکن حضرت مرزا صاحب کو تو اللہ نے سر سے پاؤں تک محبوبیت کا لباس اپنے ہاتھوں سے پہنایا تھا۔تیرہ دن قادیان شریف میں رہا۔دونوں وقت اس امامِ ربانی محبوب سبحانی سے ملاقات رہی۔یہ زمانہ میری عمر کا بہت ہی عمدہ زمانہ تھا۔حضرت کی بیمثل تصانیف کے دیکھنے کا مجھ کو یہاں اچھا موقعہ ملا۔آئینہ کمالات اسلام، فتح اسلام، توضیح مرام ، ازالہ اوہام، شہادۃ القرآن، برکات الدعا وغیرہ کتابوں کو تھوڑا تھوڑا دیکھا۔عبدالرحمن سیٹھ صاحب نے مہربانی فرما کر ایک ایک جلد حضرت کی تصانیف کی میرے دیکھنے کے لئے خرید فرمائی۔سیٹھ صاحب کی یہ عمدہ یادگار ابھی تک میرے پاس موجود ہے اور میں نے اس سے بہت بڑا نفع اٹھایا۔حضرت کی تصانیف کود یکھ کر مجھ کو یہ معلوم ہوا کہ جس مجدد زمان کی مجھ کو تلاش تھی۔در حقیقت علم الہی میں وہ جناب حضرت مرزا غلام احمد صاحب ہی تھے۔اللہ نے حضرت کو ہی اس موجودہ زمانہ کے فتن کے مقابلہ میں غلبہ اسلام ظاہر کرنے کے لئے پیدا کیا تھا۔“ اب بہت بڑا سوال یہ پیش آیا کہ آیا میں ایسے جلیل القدر امام کا متبع ہو جاؤں اور ناحق کی تکفیر اور ملامت کو ٹو کر اسر پر اُٹھاؤں اور جو کچھ عزت میں نے عمدہ واعظ ہونے کی حیثیت سے سارے ہند میں پیدا کی ہے۔اس کو حق پر قربان کر کے بجائے مقبول خلائق ہونے کے مردود وملعون بن جاؤں یا شیعوں کی پالیسی اختیار کر کے حضرت مرزا صاحب کے پاس ان کا موافق اور ان کے مخالفوں کے پاس (معاذ اللہ ) مرزا صاحب کا مخالف بن کر واہ واہ کی صداسنوں۔عجب کشمکش میں کئی دن میرے قادیان شریف میں گذرے۔روز رو رو کر جناب باری تعالیٰ میں دعائیں کرتا که خداوند! اگر تیری خوشنودی مرزا صاحب کی تابعداری و فرمانبرداری میں ہے تو مجھ کو بذریعہ خواب کے جیسا کہ تو نے بارہا کیا ہے اصل حال کھول دے لیکن ادھر سے سناٹا تھا۔مالک کی یہی مرضی تھی کہ میں خود خدا داد عقل کو استعمال کر کے اپنا نفع و نقصان دیکھ بھال کر کام کروں۔پٹنہ اسکول کی ہیڈ ماسٹری چھوڑنے سے اس دفعہ بھاری معاملہ تھا۔اس دفعہ ایک بھاری قربانی کا موقعہ