حیات طیبہ — Page 159
159 اعجاز کے طور پر بخشا کہ اس کے مقابل پر صرف عبدالحق کیا بلکہ کل مخالفوں کی ذلت ہوئی اور جسمانی نعمتیں جو مباہلہ کے بعد میرے پر وارد ہوئیں وہ مالی فتوحات ہیں جو اس درویش خانہ کے لئے خدا تعالیٰ نے کھول دیں مباہلہ کے روز سے آج تک پندرہ ہزار کے قریب فتوح غیب کا روپیہ آیا جو اس سلسلہ کے ربانی مصارف میں خرچ ہوا۔آٹھواں امر کتاب ست بچن کی تالیف ہے۔اس کتاب کی تالیف کے لئے خدا تعالیٰ نے مجھے وہ سامان عطا کئے جو تین سو برس سے کسی کے خیال میں بھی نہ آئے ہوں گے۔نواں امر اس عرصہ میں آٹھ ہزار کے قریب لوگوں نے میرے ہاتھ پر بیعت کی۔پس میں یقیناً جانتا ہوں کہ اس قدر بنی آدم کا تو بہ کا ذریعہ جو مجھ کو ٹھہرایا گیا یہ اس قبولیت کا نشان ہے جو خدا کی رضامندی کے بعد حاصل ہوتی ہے۔دسواں امر جلسہ مذاہب لاہور ہے۔اس جلسہ کے بارے میں مجھے زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔جس رنگ اور جس نورانیت کی قبولیت میرے مضمون کے پڑھنے میں ہوئی اور جس طرح دلی جوش سے لوگوں نے مجھے اور میرے مضمون کو عظمت کی نگہ سے دیکھا کچھ ضرورت نہیں کہ میں اس کی تفصیل کروں۔سب لوگ بے اختیار بول اُٹھے کہ اگر یہ مضمون نہ ہوتا تو آج باعث محمد حسین وغیرہ کے اسلام کو سبکی اُٹھانی پڑتی۔امرتسری مولوی مسجد محمد جان کے نچلے حجرہ میں مباہلہ مذکورہ بالا کے بعد حضرت اقدس نے مولویوں کو مخاطب کر کے ایک اشتہار شائع فرمایا کہ: اب ہم عیسائیوں کے ساتھ مباحثہ سے فارغ ہو چکے ہیں اور آج سے تیسرے روز تک یہاں ٹھہر ینگے جس مولوی کو ہم سے بحث کرنی ہو وہ کوئی مقام تجویز کر کے بحث کر لیں۔ایسا نہ ہو کہ بعد میں شور مچایا جائے کہ بھاگ گئے۔حضرت اقدس کے اس اشتہار سے مولوی صاحبان ایسے مرعوب ہوئے کہ کسی نے دم نہ مارا۔اس پر خواجہ محمد یوسف صاحب رئیس امرتسر نے مولویوں سے کہا کہ اب تم بحث کیوں نہیں کرتے جبکہ مرزا صاحب نے بحث منظور کر لی ہے جب وہ چلے جائیں گے تو تم اس وقت پھر شور مچاؤ گے کے مرزا صاحب بھاگ گئے اور علمائے امرتسر سے بحث نہیں کی۔مولویوں نے جواب دیا کہ ہم بحث کریں گے۔باہم مشورہ کر لیں۔‘1 لے رسالہ نور احمد صفحه ۳۳