حیات طیبہ — Page xviii
جماعت کے دوستوں خصوصا نو جوانوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی کے حالات کا گہرا مطالعہ کرنا چاہئیے۔میں اسوقت تو خاموش رہا لیکن دل میں پختہ ارادہ کر لیا کہ یہاں سے لاہور واپس جاتے ہی سیرت لکھنے کا کام انشاء اللہ شروع کر دونگا۔دوسرا باعث یہ بھی ہوا کہ کچھ عرصہ سے رات کو سوتے ہوئے مجھے کثرت سے آوازیں آتی تھیں کہ امتحان کی تیاری کر لو۔امتحان کی تیاری کرلو۔اس سے بھی میں سمجھا کہ شاید مجھے یہی سمجھایا جا رہا ہے کہ سفر آخرت کے لئے کوئی زادراہ جمع کرلو۔سو انہی امور کی وجہ سے میں نے ارادہ کر لیا کہ ”سیرت“ لکھنے کا کام فور اشروع کر دینا چاہیئے۔چنانچہ آج مورخہ یکم مئی ۱۹۵۹ء کو جمعہ کے روز اس عاجز نے مسجد احمد یہ بیرون دہلی دروازہ لاہور میں جہاں یہ عاجز بطور مربی جماعت مقیم ہے۔بعض بزرگوں کی معیت میں دعا کرنے کے بعد اس غرض کی تکمیل کے لئے قلم اُٹھایا ہے۔وَارْجُو مِنَ اللَّهِ خَيْرًا وَآتَوَكَّلْ عَلَيْهِ - میرا ارادہ کوئی تعلیم تاریخی کتاب لکھنے کا نہیں بلکہ میرے سامنے تو صرف یہ مقصد ہے کہ جماعت کے نوجوان طبقہ اور سلسلہ سے متعلق تحقیقات کرنے والے دوستوں کے ہاتھ میں حضرت بانی سلسلہ کے حالات پر مشتمل ایک مکمل کتاب دیدی جائے جس کا مطالعہ کر کے وہ یہ اندازہ کر سکیں کہ جس شخص کے سپر د آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا عظیم الشان کام کیا گیا ہے وہ کس درجہ اور کس معرفت کا انسان ہے و بس۔سو میں اللہ تعالیٰ پر توکل کر کے اس کام کو شروع کرتا ہوں اور اسی کے حضور دعا کرتا ہوں کہ وہ روح القدس سے میری تائید فرمائے۔امِيْن اللَّهُمَّ آمِيْن یه بزرگ محتر می شیخ رحمت اللہ صاحب سیکریٹری مال حلقہ دہلی دروازہ اور محترمی صوفی عطا محمد صاحب ہیں اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دے۔انہوں نے جب دعا شروع کی تو دومنٹ کے بعد ہی محترم شیخ رحمت اللہ صاحب نے آمین کہ کر فرمایا کہ کتاب جناب الہی میں مقبول ہوگئی ہے کیونکہ جونہی میں نے ہاتھ اُٹھائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سامنے تشریف لے آئے۔فَالْحَمْدُ لِلهِ عَلى ذلِك عبد القادر مورخہ یکم مئی ۱۹۵۹