حیات طیبہ — Page 154
154 ڈپٹی عبداللہ انتم نے مباحثہ کی شرائط کی پابندی نہ کی شرائط مباحثہ میں سے ایک شرط یہ تھی کہ فریقین اپنے دعاوی اور دلائل اپنی اپنی الہامی کتاب قرآن مجید اور بائیل سے پیش کریں گے مگر پادری صاحب نے اس شرط کی بالکل پابندی نہیں کی۔حتی کہ حضرت اقدس کو اپنے آخری پر چہ میں یہ لکھوانا پڑا کہ: ” مجھے بہت افسوس ہے کہ جن شرائط کے ساتھ بحث شروع کی گئی تھی۔ان شرائط کا ڈپٹی صاحب نے ذرا پاس نہیں فرمایا۔شرط یہ تھی کہ جیسے میں اپنا ہر ایک دعوئی اور ہر ایک دلیل قرآن شریف کے معقولی دلائل سے پیش کرتا گیا ہوں۔ڈپٹی صاحب بھی ایسا پیش کریں لیکن وہ کسی موقعہ پر اس شرط کو پورا نہیں کر سکے۔“ ایک عجیب واقعہ دوران مباحثہ میں ایک دن عیسائیوں نے خفیہ طور پر ایک اندھا اور ایک بہرہ اور ایک نہ لنگڑا مباحثہ کی جگہ میں لا کر ایک طرف بٹھا دیئے۔اور پھر اپنی تقریر میں حضرت اقدس کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ مسیح ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔لیجئے۔یہ اندھے اور بہرے اور لنگڑے آدمی موجود ہیں۔مسیح کی طرح ان کو ہاتھ لگا کر اچھا کر دیجئے۔میر صاحب کے بیان کرتے ہیں کہ ہم سب حیران تھے کہ دیکھئے اب حضرت صاحب اس کا کیا جواب دیتے ہیں۔پھر جب حضرت صاحب نے اپنا جواب لکھوانا شروع کیا۔تو فرمایا کہ میں تو اس بات کو نہیں مانتا کہ مسیح اس طرح ہاتھ لگا کر اندھوں اور بہروں اور لنگڑوں کو اچھا کر دیتا تھا۔اس لئے مجھ پر یہ مطالبہ کوئی حجت نہیں ہو سکتا ہاں البتہ آپ لوگ مسیح کے معجزے اس رنگ میں تسلیم کرتے ہیں اور دوسری طرف آپ کا یہ بھی ایمان ہے کہ جس شخص میں ایک رائی کے برابر بھی ایمان ہے وہ وہی کچھ دکھا سکتا ہے جو سیح دکھاتا تھا۔پس میں آپ کا بڑا شکر گزار ہوں کہ آپ نے مجھے اندھوں اور بہروں اور لنگڑوں کی تلاش سے بچا لیا۔اب آپ ہی کا تحفہ آپ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے کہ یہ اندھے، بہرے اور لنگڑے حاضر ہیں۔اگر آپ میں ایک رائی کے برابر بھی ایمان ہے تو مسیح کی سنت پر آپ ان کو اچھا کر دیں۔میر صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت صاحب نے جب یہ فرمایا تو پادریوں کی ہوائیاں اُڑ گئیں اور لے مراد حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب مرحوم ماموں جان حضرت اقدس خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی۔