حیات طیبہ

by Other Authors

Page 133 of 492

حیات طیبہ — Page 133

133 یہ گویا اعلان تھا اس امر کا کہ مولوی محمد حسین صاحب کی ذلت کی ابتداء ہو چکی ہے۔سو پہلی ذلّت تولدھیانہ کے مباحثہ میں ہی مولوی صاحب اُٹھا چکے تھے۔دوسرے جب وہ لاہور پہنچے تو چینیا نوالی مسجد کی امامت سے علیحدہ کر دیئے گئے۔اے لاہور میں مولوی صاحب حضرت اقدس کے مقابلہ پر تو نہ آئے۔البتہ ایک جلسہ مسجد وزیر خاں میں کیا۔حضرت شیخ یعقوب علی صاحب تراب فرماتے ہیں: 66 میں اس جلسہ میں موجود تھا۔حنفی تو ان سے متنفر تھے ہی اور اہل حدیث کو بھی ان سے دلچسپی نہ تھی۔“ اس لیے ”مولوی صاحب کے اس جلسہ میں کچھ لوگ کشمیری بازار اور چوک وزیر خاں کے جمع تھے۔مولوی صاحب منبر پر کھڑے ہو کر ” توضیح مرام وغیرہ پر اعتراض کرنے لگے۔لوگوں نے کچھ توجہ نہ کی اور عام طور پر کہتے تھے کہ لدھیانہ میں مباحثہ ہار کر آیا ہے اور اب کفر کا فتویٰ دیتا ہے یہ مجمع بمشکل آدھ گھنٹہ رہا اور منتشر ہو گیا۔‘ سے سفر سیالکوٹ ابھی حضور لاہور میں ہی تھے کہ سیالکوٹ کی جماعت نے آپ کو سیالکوٹ تشریف لانے کی دعوت دی اور اس غرض کے لئے خاص طور پر حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کو اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا۔حضور نے ان کی اس دعوت کو قبول فرما لیا اور فروری ۱۸۹۲ء کے دوسرے ہفتہ میں حضور سیالکوٹ تشریف لے گئے اور حضرت حکیم میر حسام الدین صاحب کے مکان پر قیام فرمایا۔سیالکوٹ سے آپ یوں بھی مانوس تھے۔کیونکہ ۱۸۶۴ء سے لیکر ۱۸۶۸ء تک به سلسله ملازمت آپ وہاں رہ چکے تھے اور سیالکوٹ کے لوگ بھی آپ کی پاکیزہ زندگی اور غیرتِ اسلامی کے مظاہروں کو دیکھ چکے تھے۔اس لئے وہ بھی آپ کو خاص عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ہم حضور کے بچپن کے حالات میں لکھ چکے ہیں کہ حضور کے ابتدائی اساتذہ میں سے ایک استاد مولوی فضل احمد صاحب مرحوم بھی تھے۔ان کے قابل فرزند حضرت مولوی ابو یوسف مبارک علی صاحب جو سیالکوٹ کے علماء میں ایک ممتاز حیثیت رکھتے تھے اور صدر بازار کی جامع مسجد کے امام تھے۔بیعت کر کے سلسلہ عالیہ میں داخل ہوئے۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی جو سیالکوٹ کے مشہور خطیب اور غیرت اسلامی کے پیکر تھے وہ تو پہلے ہی آپ کے دعوی کو تسلیم لے بحوالہ حیات احمد جلد سوم صفحہ ۲۱۱۔نوٹ۔مسجد چینیا نوالی کے متولی اس وقت ملاں غوث تھے جو ہمارے مشہور احمد کی دوست سید دلاور شاہ صاحب مرحوم کے نانا تھے اور ملاں صاحب موصوف نے بھی غالبا ۱۹۰۴ میں بیعت کر لی تھی سے بحوالہ حیات احمد جلد سوم صفحہ ۲۱۱، ۲۱۲