حیات طیبہ — Page 129
129 حضرت حاجی الحرمین مولانا حافظ حکیم نورالدین صاحب بھیروی کی تقریر حضرت حاجی الحرمین مولانا حافظ حکیم نورالدین صاحب بھیروی جو بعد میں حضرت اقدس کے خلیفہ اول قرار پائے اس جلسہ میں موجود تھے۔حضور نے اپنی تقریر کے بعد اُن سے فرمایا کہ آپ بھی کچھ تقریر کریں۔اس پر حضرت مولا نا کھڑے ہوئے اور فرمایا: آپ نے مرزا صاحب کا دعویٰ اور اس کے دلائل آپ کی زبان سے سنے اور اللہ تعالیٰ کے اُن وعدوں اور بشارتوں کو بھی سنا۔جو ان مخالف حالات میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو دی ہیں۔تمہارے اس شہر والے لوگ مجھے اور میرے خاندان کو جانتے ہیں۔علماء بھی مجھ سے ناواقف نہیں۔اللہ تعالیٰ نے مجھے قرآن کا فہم دیا ہے۔میں نے بہت غور مرزا صاحب کے دعاوی پر کیا۔اور اللہ تعالیٰ سے دُعائیں کیں۔ان کی خدمات اسلامی کو دیکھا کہ اور ان کی مخالفت کرنے والوں کے حالات پر غور کیا تو قرآن مجید نے میری رہنمائی فرمائی۔میں نے دیکھا کہ ان سے پہلے آنے والوں کا مقابلہ جس طرح پر کیا گیا۔وہی اب ہورہا ہے۔گویا اس پرانی تاریخ کو دوہرایا جارہا ہے میں کلمہ شہادت پڑھ کر کہتا ہوں کہ مرزا حق پر ہے اور اس حق سے ٹکرانے والا باطل پاش پاش ہو جائے گا۔مومن حق کو قبول کرتا ہے۔میں نے حق سمجھ کر اسے قبول کیا ہے اور حضرت نبی کریم کے ارشاد کے موافق کہ مومن جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔اپنے بھائی کے لئے پسند کرتا ہے آپ کو بھی اس حق کی دعوت دیتا ہوں۔وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغ السلام علیکم۔یہ کہہ کر منبر سے اتر آئے اور جلسہ برخاست ہو گیا۔‘1 حضرت اقدس کے کمال ضبط کا ایک واقعہ لوگوں کی بکثرت آمد ورفت اور دن بھر کے ہجوم کو دیکھ کر آپ منشی میراں بخش صاحب کی کوٹھی سے محبوب رائیوں سے کی ایک وسیع اور فراخ کوٹھی میں منتقل ہو گئے۔گو حضور کے قیام لاہور کے دوران میں لوگوں نے مخالفت کی لیکن یہ اس قسم کی ذلیل مخالفت نہیں تھی۔جیسی کہ دہلی والوں نے کی۔البتہ ایک واقعہ ایسا پیش آیا جس نے حضرت اقدس کی برد باری اور حمل کا پورا نقشہ پیش کر دیا۔حضرت شیخ یعقوب علی صاحب تراب لکھتے ہیں: کتاب مذکور صفحہ ۲۰۹ سے محبوب رائیاں ہندو کھتریوں کی گوت کے قبیلہ کا نام تھا۔