حیات طیبہ

by Other Authors

Page 128 of 492

حیات طیبہ — Page 128

128 ایک انگریز کا قبول اسلام ۱۳ / جنوری ۱۸۹۲ء ۱۳ جنوری ۱۸۹۲ء کو احاطه مدراس کے ایک منصف انگریز مسٹر ویٹ جان خلف الرشید مسٹر جان ویٹ نے قادیان دارالامان حاضر ہوکر بیعت کی۔اس سے حضرت اقدس کو بہت خوشی ہوی۔کیونکہ تھوڑا عرصہ قبل ہی آپ ایک رویاء میں دیکھ چکے تھے کہ میں نے دیکھا کہ میں شہر لندن میں ایک منبر پر کھڑا ہوں اور انگریزی زبان میں ایک نہایت مدلل بیان سے اسلام کی صداقت ظاہر کر رہا ہوں۔بعد اس کے میں نے بہت سے پرندے پکڑے۔جو چھوٹے چھوٹے درختوں پر بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے رنگ سفید تھے اور شاید تیتر کے جسم کے موافق ان کا جسم ہوگا۔سو میں نے اس کی یہ تعبیر کی کہ اگرچہ میں نہیں مگر میری تحریریں ان لوگوں میں پھیلیں گی اور بہت سے راستباز انگریز صداقت کا شکار ہو جائیں گے۔اے مسٹر ویٹ کا قبول اسلام اس رویاء کی تعبیر کا ایک عملی ثبوت تھا جس سے آپ کا خوش ہونا بجا تھا۔سفر لاہور۔۲۰ / جنوری ۱۸۹۲ء آسمانی فیصلہ میں حضرت اقدس نے اعلان کیا تھا کہ اگر علماء پیروں، فقیروں اور گدی نشینوں میں سے کوئی صاحب ” تائیدات سماوی“ میں میرے ساتھ مقابلہ کرنا چاہیں تو اس مقصد کے لئے لاہور کا مقام نہایت موزوں ہے چنانچہ اس وعدہ کے ایفا کے لئے آپ جنوری کے تیسرے ہفتہ میں لاہور پہنچ گئے اور منشی میراں بخش صاحب مرحوم کی کوٹھی واقعہ چونہ منڈی میں قیام فرمایا۔۳۱/جنوری ۱۸۹۲ء کو آپ نے ایک عام لیکچر نشی میراں بخش صاحب کی کوٹھی کے احاطے ہی میں دیا۔بلا مبالغہ ہزاروں آدمی وہاں جمع تھے۔ہر طبقہ کے لوگ تھے۔تعلیم یافتہ۔شرفاء شہر۔عہدہ داران۔انتظام پولیس نے کیا ہوا تھا۔حضرت اقدس نے اپنے دعاوی کو مبر بہن کیا اور ان کے متعلق ضروری دلائل پیش کئے اور بالآخر آپ نے اس الزام کے جواب میں کہ علماء میرے مقابلہ میں دلائل قرآنیہ سے عاجز آکر میرے خلاف کفر کا فتویٰ دیتے ہیں ایک مومن کو کافر کہ دینا آسان ہے مگر اپنا ایمان ثابت کرنا آسان نہیں۔قرآنِ کریم نے مومن اور غیر مومن کے لئے کچھ نشان مقرر کر دیئے ہیں۔میں ان کا فر کہنے والوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ اسی لاہور میں میرے اور اپنے ایمان کا قرآن مجید کے فیصلہ کے موافق فیصلہ کر الیس ہے لے ازالہ اوہام صفحه ۵۱۵-۵۱۶ تختی خورد حیات احمد جلد سوم صفحه ۲۰۸ مصنفہ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی