حیات طیبہ

by Other Authors

Page 112 of 492

حیات طیبہ — Page 112

112 آگے چل کر حضور فرماتے ہیں :- پس ایک طرف عوام کو ورغلا کر اور ان کو جوش دہ تقریریں سنا کر میرے گھر کے اردگرد کھڑا کر دیا اور دوسری طرف مجھے بحث کے لئے بلایا اور پھر نہ آنے پر جو موانع مذکورہ کی وجہ سے تھا۔شور مچادیا کہ گریز کر گئے۔“ پھر حضور نے لکھا کہ : ”اب میں بفضلہ تعالیٰ اپنی حفاظت کا انتظام کر چکا ہوں اور بحث کے لئے تیار بیٹھا ہوں۔مصائب سفر اُٹھا کر اور دہلی والوں سے روز گالیاں اور لعن طعن کی برداشت کر کے محض آپ سے بحث کرنے کے لئے اے شیخ الکل صاحب بیٹھا ہوں۔حضرت بحث کے لئے تشریف لائیے۔کہ میں بحث کے لئے تیار ہوں پھر اللہ جلشانہ کی آپ کو قسم دے کر اس بحث کے لئے بلاتا ہوں۔جس جگہ چاہیں حاضر ہو جاؤں۔مگر بحث تحریری ہوگی۔“ بالآخر حضور نے یہ بھی تحریر فرما دیا کہ اگر آپ کسی طرح سے بحث کرنا نہیں چاہتے تو ایک مجلس میں میرے تمام دلائل وفات مسیح سن کر اللہ جلشانہ کی تین دفعہ قسم کھا کر یہ کہ دیجئے کہ یہ دلائل صحیح نہیں ہیں اور صحیح اور یقینی امر یہی ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم زندہ بجسده العنصری آسمان کی طرف اُٹھائے گئے ہیں اور آیات قرآنیہ اپنی صریح دلالت سے اور احادیث صحیحہ متصلہ مرفوعہ اپنے کھلے کھلے منطوق سے اس پر شہادت دیتی ہیں ، اور میرا عقیدہ یہی ہے۔تب میں آپ کی اس گستاخی اور حق پوشی اور بددیانتی اور جھوٹی گواہی کے فیصلہ کے لئے جناب الہی میں تضرع وابتہال کروں گا اور چونکہ میری توجہ پر مجھے ارشاد ہو چکا ہے کہ اُدْعُونِی اَسْتَجِبْ لَكُمْ اور مجھے یقین دلایا گیا ہے کہ اگر آپ تقوی کا طریق چھوڑ کر ایسی گستاخی کریں گے اور آیت لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلم کو نظر انداز کریں گے۔تو ایک سال تک گستاخی کا آپ پر ایسا کھلا کھلا اثر پڑے گا جو دوسروں کے لئے بطور نشان کے ہو جائے گا لہذا مظہر ہوں کہ اگر بحث سے کنارہ ہے تو اسی طور سے فیصلہ کر لیجئے تا وہ لوگ جو نشان نشان کرتے ہیں ان کو خدا تعالیٰ کوئی نشان دیکھا دیوے۔وَهُوَ عَلى كُلِّ شَيْي ءٍ قَدِيرٌ وَأَخِرُ دَعَونَا آنِ الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ حیات مسیح کا قرآن وحدیث سے ثبوت دینے کا انعام اور اسی اشتہار میں یہ بھی تحریر فرمایا کہ