حیات طیبہ — Page 111
111 اگر ہر دو مولوی صاحب موصوف حضرت مسیح بن مریم کو زندہ کہنے میں حق پر ہیں تو میرے ساتھ بپابندی شرائط مندرجہ اشتہار ۱/۲اکتوبر ۱۸۹۱ء بالاتفاق بحث کریں۔“ اور اتمام حجت کی غرض سے بطور تنزل یہ بھی لکھ دیا کہ اگر مولوی سید نذیر حسین صاحب کسی انگریز افسر کو جلسہ بحث میں مامور کرانے سے ناکام رہیں تو اس صورت میں بذریعہ اشتہار حلفا اقرار کریں کہ ہم خود قائمی امن کے ذمہ دار ہیں اور اگر کوئی شخص حاضرین میں سے کوئی کلمہ خلاف تہذیب و ادب زبان سے نکالے گا تو ہم اُسے فی الفور اس مجلس سے نکال دیں گے۔ایسی صورت میں بھی ہم مولوی صاحب کی مسجد میں بحث کے لئے حاضر ہو سکتے ہیں۔اس دوسرے اشتہار کے شائع ہونے کے بعد مولوی سید نذیر حسین صاحب کے شاگردوں نے خود ہی ایک تاریخ مقرر کر کے ایک اشتہار شائع کر دیا کہ فلاں تاریخ کو مرزا صاحب سے بحث ہوگی مگر حضرت اقدس سے قبل از وقت کوئی تصفیہ نہ کیا۔بلکہ عین جلسہ کے وقت حضرت اقدس کی خدمت میں ایک آدمی بھیج دیا کہ بحث کے لئے چلئے۔مولوی سید نذیر حسین صاحب مباحثہ کے لئے آپ کے منتظر ہیں اور دوسری طرف ایک مشتعل ہجوم نے حضرت اقدس کے گھر کا محاصرہ کر لیا اور حضرت اقدس با وجود تیار ہو جانے کے مباحثہ کے لئے باہر نہ نکل سکے۔اس پر لوگوں میں یہ مشہور کر دیا گیا کہ مرزا صاحب شیخ الکل سے ڈر گئے ہیں۔اس پر حضرت اقدس نے ۱۷ اکتوبر ۱۸۹۱ء کو ایک تیسرا اشتہار شائع فرمایا۔جس کا عنوان یہ تھا: اللہ جل شانہ کی قسم دے کر مولوی سید نذیر حسین کی خدمت میں بحث حیات ممات مسیح بن مریم کے لئے درخواست اس اشتہار میں اُس جلسہ کا جس میں آپ جا نہیں سکے تھے ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یکطرفہ جلسہ میں شامل ہونا اگر چہ میرے پر فرض نہ تھا۔کیونکہ میرے اتفاق رائے سے وہ جلسہ قرار نہ پایا تھا اور میری طرف سے ایک خاص تاریخ میں حاضر ہونے کا وعدہ بھی نہ تھا۔مگر پھر بھی میں نے حاضر ہونے کے لئے تیاری کر لی تھی، لیکن عوام کے مفسدانہ حملوں نے جو ایک ناگہانی طور پر کئے گئے اس دن حاضر ہونے سے مجھے روک دیا۔صد ہا لوگ اس بات کے گواہ ہیں کہ اس جلسہ کے عین وقت میں مفسد لوگوں کا اس قدر ہجوم میرے مکان پر ہو گیا کہ میں ان کی وحشیانہ حالت کو دیکھ کر اوپر کے زنانہ میں چلا گیا۔آخر وہ اس طرف آئے اور گھر کے کواڑ توڑنے لگے اور یہاں تک نوبت پہنچی کہ بعض آدمی زنانہ مکان میں گھس آئے اور ایک جماعت کثیر نیچے اور گلی میں کھڑی تھی جو گالیاں دیتے تھے اور بڑے جوش سے بد زبانی کا بخار نکالتے تھے۔بڑی مشکل سے خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے ان سے رہائی پائی۔“