حیات طیبہ — Page 110
110 سفر دہلی۔۲۸ / ستمبر ۱۸۹۱ء ۲۸ ستمبر ۱۸۹۱ء کو حضور معہ چند خدام ہندوستان کے مرکزی شہر دہلی میں جو علم وفضل کا بھی مرکز تھا پہنچے اور کوٹھی نواب لوہارو میں قیام فرمایا۔حضور کا مقصد یہ تھا کہ دہلی میں آپ کے دعوی کی اشاعت سے تمام ہندوستان میں پیغام پہنچ جائے گا۔چنانچہ حضور نے پے در پے تین اشتہارات علمائے دہلی اور خصوصا مولوی سید نذیرحسین صاحب الملقب شیخ الکل کے نام سے شائع فرمائے۔پہلا اشتہار حضور نے ۲ اکتوبر ۱۸۹۱ء کو ایک عاجز مسافر کا اشتہار قابل توجه جمیع مسلمانانِ انصاف شعار و حضرات علماء نامدار کے عنوان سے شائع فرمایا۔اس اشتہار میں حضرت اقدس نے اپنے عقائد تحریر فرما کر مولوی سید نذیر حسین صاحب اور مولوی ابومحمد عبد الحق صاحب کو مسئلہ حیات و وفات مسیح پر مباحثہ کے لئے بلایا اور انہیں لکھا کہ اس مباحثہ کے لئے تین شرطوں کی پابندی لازمی ہوگی: اول: امن قائم رکھنے کے لئے خود سر کاری انتظام کر اویں یعنی ایک انگریز افسر مجلس بحث میں موجود ہو۔دوم : یہ بحث تحریری ہو اور سوال و جواب مجلس بحث میں لکھے جائیں۔جائے۔سوم : تیسری شرط یہ ہے کہ بحث مسئلہ وفات وحیات مسیح میں ہو اور کوئی شخص قرآن وحدیث سے باہر نہ اور یہ بھی تحریر فرمایا کہ میں حلفا اقرار کرتا ہوں کہ اگر میں اس بحث میں غلطی پر نکلا۔تو دوسرا دعوئی (مسیح موعود ہونے کا ) خود چھوڑ دونگا اور اس اشتہار کے شائع ہونے کے بعد ایک ہفتہ تک حضرات موصوف کے جواب باصواب کا انتظار کروں گا۔اس اشتہار کی اشاعت کے بعد مولوی ابومحمد عبد الحق تو حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہو کر معذرت کر گئے کہ میں ایک گوشہ نشین آدمی ہوں اور ایسے جلسوں میں حاضر ہونے سے میری طبیعت کراہت کرتی ہے چونکہ مولوی محمد حسین صاحب بھی دہلی پہنچ گئے تھے۔انہوں نے حضرت کے اشتہار کے مقابل میں ایک اشتہار شائع کیا اور اس میں حضرت اقدس کے متعلق لکھا کہ یہ میرا شکار ہے کہ بدقسمتی سے پھر دہلی میں میرے قبضہ میں آ گیا اور میں خوش قسمت ہوں کہ بھا گا ہوا شکار پھر مجھے مل گیا۔“ اور خوب اشتعال انگیزی کی۔اس لئے حضرت اقدس نے ۶ / اکتوبر ۱۸۹۱ء کو پھر ایک اشتہار شائع فرمایا جس کا عنوان یہ تھا۔اشتہار بمقابل مولوی سید نذیر حسین صاحب سرگروہ اہلحدیث اس اشتہار میں حضرت اقدس نے مولوی سید نذیر حسین صاحب اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی دونوں کو مخاطب کر کے لکھا کہ: