حیات قدسی — Page 625
۶۲۵ میں نے اس الہام سے حضرت میاں صاحب مدظلہ العالی کی خدمت میں اطلاع دے دی جس کے جواب میں آپ نے تحریر فرمایا کہ اس الہام سے تو حضرت مقدسہ کی رحلت کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے۔چنانچہ چند روز کے بعد ہی حضرت سیدۃ النساء انتقال فرما گئیں۔انا للہ وانا اليه راجعون۔علیا حضرت کی وفات پر خاکسار نے جو مرثیہ بحالت غم والم لکھا۔وہ دوسری جگہ درج ہے اللہ تعالیٰ آپ کے درجات اعلیٰ علیین میں بلند فرمائے اور آپ کی آل و اولاد پر رحمتوں کا نزول فرماتا رہے۔آمین استغفار کے متعلق عجیب نکتہ معرفت ایک دفعہ سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی مجلس عرفان میں معارف و حقائق بیان فرما رہے تھے۔اسی دوران میں آپ نے استغفار کے متعلق ایک عجیب نکتہ معرفت بیان فرمایا۔آپ نے فرمایا کہ استغفار پڑھتے ہوئے زمانہ ماضی کے متعلق یہ مفہوم مد نظر رکھا جائے کہ زمانہ ماضی میں اب تک جو عیوب اور ذنوب سرزد ہوئے ہیں جن کی وجہ سے میری روحانی یا ظاہری ترقی میں روک پیدا ہو سکتی ہے ان کی سزا سے بچایا جائے اور آئندہ زمانہ میں بھی ایسے گنا ہوں اور نقائص سے محفوظ رکھا جائے اور ان کے برے اثرات سے بچایا جائے جن کی وجہ سے میری ترقی اور بلندی کے حصول میں روک پیدا ہو سکتی ہے۔گویا استغفار کا مفہوم زمانہ ماضی اور مستقبل دونوں پر حاوی ہے۔حضور کے ارشادات کو میں نے اپنے الفاظ میں بیان کر دیا ہے تا کہ احباب بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ایک عجیب کشف کچھ عرصہ ہوا کہ میں نماز پڑھ کر دعا کر رہا تھا کہ اچانک میں نے ایک عجیب کشفی نظارہ دیکھا میں نے دیکھا کہ سید نا حضرت المصلح الموعود ایدہ اللہ تعالیٰ اپنے اخص احباب کے ساتھ کہیں تشریف لے جا رہے ہیں خاکسار راقم بھی ان احباب کی معیت میں حضور کے ساتھ ہے جو نہی میں نے حضور کے چہرہ کی طرف نظر اٹھائی تو میں نے آپ کے آئینہ وجود میں خدا تعالیٰ کی تجلی محسوس کی اور یہ منظر بے حد حسن و جمال کے ساتھ بار بار میرے مشاہدہ میں آیا اور اس جلوہ قدس سے متاثر ہوکر میں