حیات قدسی — Page 624
۶۲۴ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی طرف سے بعض صحابہ کو جس میں خاکسار حقیر خادم بھی شامل تھا۔بوساطت سیدی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ العالی دعا اور استخارہ کرنے کا ارشا د موصول ہوا۔خاکسار بھی اس بارہ میں متواتر دعا اور استخارہ کرتا رہا۔جس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھے الہا ما فر مایا گیا:۔فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِندَ الْمَلِكِ الْمَلِيْكَ الْمُقْتَدِرِ یہ الہام اپنے مفہوم کے لحاظ سے کامیابی کی بشارت دیتا تھا اور اس سے یہ اشارہ پایا جاتا تھا کہ آپ کی یہ کامیابی دینی و دنیوی اعتبار سے بہت بڑی عظمت اور شان رکھے گی لفظ ”صدق سے کامیابی یقینی طور پر ہونا ظاہر ہوتا ہے اور ” الملک کے لفظ سے دنیوی بادشاہت کی نسبت سے اعزاز اور الملیک المقتدر“ کے الفاظ سے اللہ تعالیٰ کی قدوس اور ذوالاقتدار ہستی کی نصرت اور برکت کی طرف اشارہ پایا جاتا تھا۔چنا نچہ محترم چوہدری صاحب ممدوح اس بشارت کے مطابق اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے مقدسوں کی برکت سے عالمی عدالت کے جج کے عہدہ جلیلہ پر فائز ہوئے۔اور آپ کو دنیوی اعزاز ومرتبہ کے علاوہ اس عہدہ پر فائز ہونے کے بعد خاص طور پر دینی خدمات سرانجام دینے کی بھی توفیق ملی۔فالحمد لله علی ذالک۔حضرت اُمّ المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وصال کے متعلق الہام جب خاکسار پشاور میں مقیم تھا تو سیدۃ النساء حضرت ام المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طبیعت زیادہ علیل ہو گئی۔تو حضرت مقدسہ و مطہرہ کی صحتیابی کے لئے دعا کے اعلانات کے علاوہ سیدی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ العالی کے متعدد خطوط خاکسار کے نام دعا کے لئے موصول ہوئے۔چنانچہ خاکسار نا چیز غلام نے دعاؤں کا سلسلہ بالالتزام جاری رکھا۔ایک دن میں دعا کر رہا تھا کہ اچانک میری زبان پر الہا مایہ فقرہ جاری ہوا:۔في مقعد صدق عند ملیک مقتدر