حیات قدسی

by Other Authors

Page 623 of 688

حیات قدسی — Page 623

۶۲۳ سونے کی انگوٹھی ضرور لے جاؤں گا اور آپ کی دوبارہ زیارت کرنے کے لئے آٹھویں دن پھر اس مریضہ کے پاس حاضر ہو جاؤں گا۔چنانچہ اس کے بعد اس معمول نے مجھے سلام کہا اور چلا گیا اور وہ مریضہ اسی وقت کلمہ پڑھتے ہوئے ہوش میں آگئی۔مگر عجیب بات یہ ہوئی کہ اس وقت اس مریضہ کی انگلی سے سونے کی انگوٹھی بھی غائب ہو گئی۔ٹھیک آٹھویں دن جب اس معمول کے وعدہ کے مطابق اس مریضہ کو دوبارہ دورہ پڑا تو مجھے پھر وہ دوست بلا کر لے گئے۔مجھے دیکھتے ہی وہ آسیب کہنے لگا۔لیجئے ہم اپنے وعدہ کے مطابق ٹھیک آٹھویں دن حاضر ہو گئے ہیں۔میں نے کہا یہ تو ٹھیک ہے مگر اس مریضہ کی سونے کی انگوٹھی کہاں ہے۔کہنے لگا وہ انگوٹھی چاہیئے تو وہ اس مکان کے فلاں کمرے میں جو برتن پڑے ہوئے ہیں ان کے اندر رکھی ہوئی ہے۔چنانچہ اسی وقت جب انگوٹھی اس جگہ تلاش کی گئی تو واقعی انہی برتنوں میں سے ایک برتن کے اندر وہ انگوٹھی مل گئی۔اس کے بعد اس مریضہ کو صحت ہوگئی اور وہ آسیب پھر نہیں لوٹا۔اس واقعہ میں اور موضع سعد اللہ پور کے واقعہ میں برتنوں کا ٹوٹنا اور انگوٹھی کا غائب ہونا ایک عجیب بھید ہے۔واللہ اعلم باسراره۔دوسرا واقعہ ایسا ہی لاہور میں ایک مرتبہ حضرت میاں چراغ الدین صاحب رضی اللہ عنہ کے نواسے اور کو جناب حکیم مرہم عیسی صاحب کے ہمشیرہ زادہ ڈاکٹر عبدالحمید صاحب پسر میاں نظام الدین صاحب جو اس وقت میٹرک میں تعلیم پاتے تھے، کو یہ عارضہ ہوا تو آسیب مجھے کہنے لگا کہ آپ ہمارے بزرگ اور بادشاہ ہیں اور آپ کا نام ہماری قوم میں ” زمر دسلیمان، مشہور ہے اور میں آپ کا درس بھی سننے آیا کرتا ہوں۔میں نے کہا خیر یہ باتیں تو ہوئیں۔تم اس مریض کو چھوڑ کر چلے جاؤ۔چنانچہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ڈاکٹر عبدالحمید صاحب پسر میاں نظام الدین صاحب کو شفا دی اور پھر اس موذی مرض نے عود نہ کیا۔آج کل وہ ڈاکٹری کے شعبہ میں ملا زمت پر ہیں۔الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَىٰ ذَالِكَ۔جناب چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان کا تقر ر بطور جج عالمی عدالت یہ ان دنوں کی بات ہے کہ جب عالمی عدالت میں جی کی ایک اسامی خالی ہوئی تو جناب چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب بھی اس کے لئے بطور امیدوار کھڑے ہوئے۔اس تعلق میں سیدنا