حیات قدسی

by Other Authors

Page 616 of 688

حیات قدسی — Page 616

۶۱۶ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک دفعہ لا ہور تشریف لے گئے بعض معززین نے آپ کی لاہور میں آمد سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مشہور عالم مفتی غلام مرتضی صاحب آف میانی ضلع شاہپور سے آپ کا مناظرہ حیات و وفات مسیح کے متعلق کرایا۔وفات مسیح کے ثبوت میں حضرت مولانا نورالدین صاحب نے یا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيْكَ وَ رَافِعُكَ إِلَى : الخ والی آیت کو پیش کیا اور حرف واؤ کو داؤ ترتیب قرار دے کر فرمایا کہ توفی کا وعدہ نمبر اول پر ہے اور دفع کا نمبر دوم پر۔اس صورت میں ضروری ہے کہ وعدہ کے مطابق مسیح علیہ السلام کی وفات پہلے ہو اور ان کا رفع اس کے بعد وقوع میں آئے اور وفات کے بعد جسمانی رفع نہیں ہوتا۔بلکہ روحانی رفع ہوتا ہے اور یہ بات تو مسلمان مانتے ہیں کہ مسیح علیہ السلام کا رفع ہو چکا۔پس ان کی وفات جو رفع سے پہلے ہوئی تھی۔لاز ما رفع سے پہلے وقوع میں آچکی ہے۔مفتی صاحب نے جواباً کہا کہ میرے نزدیک اس آیت میں حرف واؤ جمع کے لئے استعمال ہوا ہے نہ کہ ترتیب کے لئے اگر حرف واؤ ترتیب کے لئے استعمال ہوتا ہے تو اس کا ثبوت پیش کیا جائے اس پر حضرت مولانا صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ حرف واؤ ترتیب کے لئے استعمال ہوتا ہے۔جیسا کہ آیت ان الصفا والمروة من شعائر الله و سے ثابت ہوتا ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے پر صحابہ کرام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ صفا اور مروہ پہاڑیوں کے درمیان جو سعی کا حکم ہے یہ سعی صفا سے شروع کی جائے یا مروہ سے۔تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابدَءُ وا بِمَا بَدَءَ الله 100 یعنی سعی کا عمل اسی ترتیب سے شروع کیا جائے جس ترتیب سے اللہ تعالیٰ نے ان کا نام رکھا ہے کیونکہ صفا کا نام پہلے ہے اس لئے اسی مقام سے ابتدا کی جائے اور مروہ کو بعد میں رکھا جائے۔حضرت حکیم الامۃ نے فرمایا کہ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ حرف وا ؤ ترتیب کا فائدہ بھی دیتا ہے۔یہ سن کر مفتی صاحب خاموش ہو گئے۔آسیب زدگان کے متعلق بعض واقعات آئندہ صفحات میں بعض واقعات آسیب زدہ مریضوں کے متعلق شائع کئے جاتے ہیں ان واقعات کے متعلق سیدی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ العالی کی موقر رائے جو آں محترم نے خاکسار کے نام تحریر فرمائی ہے۔شکریہ کے ساتھ درج کی جاتی ہے۔( برکات احمد را جیکی مرتب )