حیات قدسی — Page 615
۶۱۵ حیثیت کے محمد کو نہیں بلکہ محمد بشانِ نبوت کو اپنی ظلیت کے مرتبہ پر مشاہدہ کرے اور انوار نبوت کو مشاہدہ کرتے ہوئے النبی کو پردہ غائب میں نہیں بلکہ مرتبہ شہود میں انکشاف س حقیقت و حقیقت سر نبوت منہ سے یہ کہے کہ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ۔پس یہ خطاب اور صیغہ مخاطب صرف قال کے لحاظ سے نہیں بلکہ حال کے لحاظ سے بھی ہے۔خدا تعالیٰ ہر مومن کو یہ مرتبہ عطا کرے۔قرآن کریم کی اعجازی شان علماء اسلام فیج اعوج کے اثرات کے تحت قرآنی حقائق و معارف سے بیگانہ ہو چکے تھے۔سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن کریم کی ترتیب، ربط دعاوی اور دلائل کے متعلق اہل اسلام کو نیا علم کلام دیا۔چنانچہ ۱۸۹۳ء میں جو امرتسر کے مقام پر عیسائیوں کے ساتھ آپ کا مشہور مناظرہ پندرہ دن تک ہوا اور جو ” جنگ مقدس کے نام سے شائع شدہ ہے اس میں آپ نے یہ عظیم الشان بات پیش کی کہ بچے مذہب کے پیروؤں کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ جو ا مر بھی پیش کریں اس کے متعلق دعویٰ اور اس کے اثبات میں دلائل اپنی الہامی کتاب سے پیش کریں یہ بات درست نہیں کہ کسی مذہب کا نمائندہ اس مذہب کی طرف ایسا دعویٰ منسوب کرے جو اس مذہب کی الہامی کتاب میں نہ پایا جا تا ہو اور نہ اس کے اثبات میں دلائل الہامی کتاب میں موجود ہوں۔جب حضور نے یہ نکتہ الہامی کتاب کے کامل ہونے کے متعلق پیش فرمایا تو حاضرین حیران ہو گئے۔حضرت علامہ مولانا نورالدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب یہ نکتہ سنا تو آپ نے فرمایا کہ حضرت اقدس علیہ السلام نے یہ نکتہ پیش کر کے ہمیشہ کے لئے قرآن کریم کی بائبل کے مقابل پر جیت ثابت کر دی ہے۔یہ وہ عظیم الشان نکتہ تھا جس کی حضرت اقدس علیہ السلام کو ہی مخالفین اسلام کے مقابل پر پیش کرنے کی بفضلہ تعالیٰ توفیق لی۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالک واؤ ترتیب سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی کے ابتدائی دور میں جبکہ حیات مسیح کے عقیدہ کے متعلق عام مسلمانوں میں بہت جوش و خروش تھا اور علماء کی طرف سے وفات مسیح کا عقیدہ رکھنے کی بناء پر احمدیوں کے خلاف کفر کے فتوے لگائے جا رہے تھے۔حضرت علامہ مولانا نورالدین صاحب