حیات قدسی

by Other Authors

Page 605 of 688

حیات قدسی — Page 605

مقصد یہ ہے کہ اعلاء کلمۃ اللہ اور تعظیم لامر اللہ کی شان دنیا میں ظاہر ہو۔مخلوق کے متعلق یہ کہ ہر انسان خدا تعالیٰ کی توحید کو اعتقادی اور عملی صورت میں پانے والا ہو جائے اور حق اللہ اور حق العباد کی امانت کو ادا کرنے والا اور تعظیم لامر اللہ اور شفقت علی خلق اللہ کے فرائض کی ادائیگی کے لئے کامل نمونہ ہو۔خدا کے قرب اور وصل سے جنت کا وارث اور جہنمی زندگی سے نجات پانے والا بنے۔ذاتی مقصد یہ ہے کہ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ 26 کے مطابق آپ خدا تعالیٰ کے عرفان اور قرب و وصل کے مدارج میں جس قدر بھی پیش از پیش ترقی کے خواہشمند ہیں ان مدارج میں آپ کو ہر لحہ ترقی حاصل ہوتی رہے چنانچہ وَ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْأُولى میں اس امر کی بشارت دی گئی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ترقی غیر متناہی مدارج کی شان رکھتی ہے۔صلوٰۃ نسک حیات و ممات آیت کریمہ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صلوٰۃ کو مقام استفاضہ پر اور حیات کے بالمقابل رکھا ہے اور ٹنگی یعنی آپ کی قربانی کو مقام افاضہ پر اور ممات کے بالمقابل پیش کیا ہے۔اس سے آپ کی زندگی کا اعلیٰ مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ ایک طرف اللہ تعالیٰ سے استفاضہ کا لامتناہی سلسلہ علی الدوام جاری ہے اور دوسری طرف آپ کی طرف سے خلق خدا کے لئے افاضہ کا غیر متناہی اور ابدی سلسلہ چلتا رہے اسی مقصد کو فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرُ کے الفاظ میں بھی پیش کیا گیا ہے یعنی فَصَلِ سے استفاضہ کر اور اَنْحَرُ سے قربانی کا سلسلہ جاری رکھ جو تیری طرف سے خلق کے لئے افاضہ کی حیثیت میں ہے اس کے نتیجہ میں کوثر تجھے عطا ہو گا۔یعنی ہر طرح کے انعامات اور برکات کی وہ کثرت جو غیر متناہی اور گنتی و شمار کی حدود سے باہر ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کو لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ الَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ اور عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُم ﷺ کے الفاظ میں بھی ذکر کیا ہے کہ دوسری مخلوق کے متعلق آپ کے کی ہمدردی اور شفقت تو در کنار کافروں تک کے لئے جو آپ کے جانی دشمن تھے آپ کی ہمدردی اور قربانی کا یہ حال تھا کہ خدا تعالیٰ جو خالق فطرت اور عالم ستر وعلن ہے شہادت دیتا ہے کہ آپ کافروں اور دشمنوں کی ہمدردی سے اس قدر گداز ہو رہے تھے کہ اپنی جان کو بوجہ شفقت اور مجاہدات