حیات قدسی — Page 539
۵۳۹ رنگ نہ پایا جاتا ہو۔وہ نماز خالص اپنے رب کے لئے ہو جو اس کے بے پایاں احسانات کو بار بار ذہن میں لا کر اس کی ازلی و ابدی محبت کا احساس کر کے اور اس کی عظمت کو مدنظر رکھ کر ادا کی جائے اور جس کے ساتھ عملی طور پر مخلوق خدا کے ساتھ رحم و شفقت کا سلوک کیا جائے اور اس غرض کے لئے قربانی پیش کی جائے اور ایسے طریق سے بچا جائے جس کا ذکر یمنعون الماعون کے الفاظ میں سورہ الماعون میں آیا ہے۔(۲) فصل لربک وانحر کے یہ معنی بھی ہیں کہ چونکہ کوثر کا عطیہ قابلِ شکر نعمت ہے اس لئے اس کے ملنے پر بطور شکر کے نماز پڑھنے کا حکم ہے اور یہاں پر نماز سہو وریاء والی نماز نہیں جس کا ذکر سورہ الماعون میں کیا گیا ہے بلکہ وہ مخلصانہ نماز مراد ہے جو اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کو مدنظر رکھ کر ادا کی جائے۔رب کے لفظ سے اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جس طرح دنیا میں انسان کا عام دستور ہے کہ جن لوگوں کی وہ ربوبیت کرتا ہے باوجود اس کے کہ وہ سامان ربوبیت بھی دراصل اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے مہیا ہوتے ہیں ان سے اس ربوبیت کے عوض میں خدمت چاہتا ہے۔مثلاً اپنے ماتحتوں ، خادموں یا ملازموں سے اور کم از کم چاہتا ہے کہ بجائے کفرانِ نعمت اور مخالفت کے اس بات کا اظہار بطور شکر یہ کیا جائے کہ فلاں صاحب ہمارا مربی اور محسن ہے اور عملی طور پر بھی اپنے محسن کے احسان کا ممنون ہو۔اللہ تعالیٰ کی محسن ہستی تو ایسی محسن و مربی ہے کہ انسان کے وجود کا ذرہ ذرہ اس کا مرہونِ منت ہے اور ہر آن انسان کے وجود کا قیام و بقا اسی محسن اعظم رب العلمین کے انواع واقسام کے افاضات کے ماتحت رونما ہو رہا ہے، پس جب ایک محسن انسان جو عارضی اور نسبتی فائدہ پہنچا تا ہے، کے متعلق زیر احسان شخص کے دل میں محبت اور خلوص پیدا ہوتا ہے تو خیـــــر الـــــــراحـــــميـــــن اور خير المحسنين خدا کے متعلق محبت اور اخلاص، عقیدت اور تشکر کے جذبات کس قدر بڑھے ہوئے ہونے چاہئیں۔( ۷ ) سورہ الکوثر میں الکوثر اور الابتر کے الفاظ میں جو پیشگوئیاں ہیں ان میں سے الکوثر والی پیشگوئی آپ کے اور آپ کے دوستوں کے اور ماننے والوں کے متعلق ہے اور الا بشر کی پیشگوئی آپ کے دشمنوں اور مخالفوں کے متعلق ہے۔آپ کے دشمن آپ کے متعلق یہ کہتے تھے کہ۔