حیات قدسی

by Other Authors

Page 538 of 688

حیات قدسی — Page 538

۵۳۸ خدام کعبہ کی یہ حالت تھی جو حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل علیہما السلام کی اولاد میں سے تھے یعنی اس مقدس ہستی کی اولاد میں سے جو حنیف اور ماكان من المشرکین کے وصف سے متصف تھی اور جس کی مہمان نوازی کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے تو دوسرے علاقوں اور ملکوں میں بسنے والوں کے اخلاق اور اعمال کا کیا حال ہو گا یقیناً ان کو ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ 7 کے الفاظ میں ہی درست طور پر بیان کیا جاسکتا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام تو اجنبی مسافروں کی مہمانی کرنے میں اعلیٰ نمونہ دکھانے والے تھے لیکن ان کی اولاد کی حالت یہاں تک گر گئی کہ ان کو قیموں اور مسکینوں کی حالتِ زار پر بھی رحم نہ آتا۔ایسے لوگوں سے یہ امید کس طرح کی جاسکتی تھی کہ وہ کعبتہ اللہ میں حقیقی نماز جو سہو وغفلت اور ریا کاری سے آلودہ نہ ہوا دا کریں گے اور اپنے مال سے فریضہ زکوۃ کو بجالائیں گے یا کسی اور خیراتی کام میں حصہ لیں گے۔جب دنیا میں عموماً اور مکہ والوں میں خصوصاً کفر و شرک اور بداعمالی اور بداخلاقی کی مسموم ہوائیں چلیں تو ان مفاسد کی اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت سید ولد آدم محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ دین اسلام کو بھیجا جو اپنی وسیع برکات کی وجہ سے کوثر ثابت ہوا اور مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے نسلاً بعد نسل ان برکات و فیوض کا حامل بنا کر ان کو کثیر الخیر بنایا اور کوثر کے انعام سے نوازا۔اور ان شانئک ھو الابتر کے الفاظ میں کوثر کے وعدے کے مقابل پر اسلام اور نمی اسلام علیہ السلام کے دشمنوں کے ابتر ہونے کا وعید پیش کیا چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اس کثرت سے روحانی اولاد عطا فرمائی کہ سارا عرب، عراق، ایران، فلسطین، شام، مصر اور کئی دوسرے ممالک آپ کے متبعین سے بھر گئے لیکن ابو جہل کا جو آپ کے دشمنوں کا سرغنہ تھا کوئی نام لیوا آج دنیا میں نظر نہیں آتا۔بلکہ اس کا اپنا صلبی بیٹا عکرمہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں آکر حضور کی روحانی اولاد میں شامل ہونے کو ہی اپنے لئے باعث فخر سمجھتا تھا۔سورۂ کوثر میں کوثر کا وعدہ ہے جو دنیا اور آخرت کی نعمتوں اور کامیابیوں پر مشتمل ہے اور اس کے حصول کا ذریعہ فصل لربک یعنی خالص اپنے رب کے لئے نماز پڑھنے کو قرار دیا گیا ہے یعنی ایسی نماز جس میں وَيُلُ لِلْمُصَلَّيْنَ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمُ سَاهُونَ الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُ وَنَ