حیات قدسی — Page 483
۴۸۳ کے زمانہ کے مشرق اور مغرب کی طرف بھی اشارہ پایا جاتا ہے۔میرے اس جواب پر حکیم مقصود علی صاحب نے اطمینان اور دوسرے حاضرین نے مسرت کا اظہار کیا۔اور مجلس کھانے کے لئے برخواست ہوئی۔کھانے کے بعد نواب صاحب محترم کی کوٹھی کے برآمدہ میں مہا راجہ سرکشن پر شاد صاحب وزیر اعظم نے سورۂ أَلَمُ نَشْرَحْ کی آیت إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا میں تکرار اور العُسُر کو دونوں دفعہ الف لام کے ساتھ اور یسر کو بغیر الف۔لام کے ذکر کرنے کے متعلق بھی استفسار کیا۔جس کا تفصیلی جواب خاکسار نے حاضرین مجلس کے سامنے عرض کیا۔یو محترم چوہدری محمد عبد اللہ خانصاحب کے متعلق ایک واقعہ کئی سال کی بات ہے کہ خاکسار ایک تبلیغی وفد کے ساتھ صوبہ اڑیسہ میں گیا۔اس وفد میں میرے علاوہ مگر می مولوی محمد سلیم صاحب فاضل ، مکرمی مہاشہ محمد عمر صاحب فاضل سنسکرت اور گیانی عباداللہ صاحب بھی شامل تھے۔ہم کلکتہ سے ہو کر کٹک ، بھدرک، کیرنگ ، سونگڑہ اور جگن ناتھ پوری وغیرہ مقامات میں گئے۔اس سلسلہ میں ہم جمشید پور اور ٹا ٹانگر (جہاں لوہے کا عظیم الشان کارخانہ ہے ) بھی گئے۔ان دنوں جناب چوہدری محمد عبداللہ صاحب برادر جناب سر چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب بالقابہ اس کارخانہ میں افسر اعلیٰ تھے۔آپ کے ہاں چند دن تک ہمارا قیام رہا۔ٹا ٹانگر میں ہمارے لیکچروں کا بہت عمدہ انتظام کیا گیا۔جناب چوہدری صاحب نے جو نہایت مخلص خادم سلسلہ ہیں۔بہت اخلاص اور محبت کا ثبوت دیا۔لیکن یہ دیکھ کر مجھے بہت دکھ ہوا کہ آپ کی ایک ٹانگ گھٹنا کے اندرونی طرف ایک عصبی ورم کے باعث شدید درد اور ورم میں مبتلا تھی۔اور با وجود کئی سال علاج کرانے کے شفایابی کی کوئی صورت پیدا نہ ہوئی تھی۔اس تکلیف کی وجہ سے بعض ڈاکٹروں نے ٹانگ کاٹنے کا مشورہ دیا تھا۔چوہدری صاحب نے مجھ پر حسن ظن رکھتے ہوئے مجھے بار بار دعا کے لئے کہا۔میں جمشید پور کے قیام اس مجلس میں حضرت مولوی عبد الرحیم صاحب غیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی موجود تھے۔(اس سوال کا جواب دوسری جگہ تحریر میں لایا جائے گا۔خاکسار مرتب )