حیات قدسی

by Other Authors

Page 482 of 688

حیات قدسی — Page 482

۴۸۲ مزید تشریح سورۃ یونس کی آیت هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاء۔میں کی گئی ہے۔قمری مہینے : ۲۹ یا ۳۰ دن کے ہوتے ہیں۔اور شمسی مہینہ میں ۳۰ یا ۳۱ دن ہوتے ہیں۔گویا گنتی کے اعتبار سے مہینہ کی تکمیل ۳۱ کے ہند سے میں ہے۔اور آیت فبای آلاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَنِ بھی اس سورۃ شریفہ میں ۳۱ بار دہرائی گئی ہے۔یہ تعداد اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ کے رحمانی فیوض کا جو انسان کو متواتر اور بار بار حاصل ہوتے ہیں۔نمایاں طور پر ذکر کیا گیا ہے۔اور انسان کو اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ وہ خدا جس نے اپنے رحمانی افاضات سے یہ نعماء تمہارے لئے پیدا کی ہیں۔جو تمہارا محسن آقا اور رب العالمین ہے اور اس نے تمہارے لئے جہانوں کے ذرہ ذرہ کو بطور فیوض ربوبیت تمہاری پرورش ترقی اور تکمیل کے لئے لگا رکھا ہے۔کیا اس کی نعمتوں کی ناشکر گذاری کرو گے۔اور ان کو جھٹلاؤ گے یہ نعمتیں تمہیں ہر آن مستفید اور متمتع کر رہی ہیں۔اور برکت اور فیوض کے ان دروازوں کے بند ہونے سے تمہاری زندگی ایک لمحہ کے لئے بھی قائم نہیں رہ سکتی۔ان حالات میں تمہارا ان نعمتوں کو جھٹلا نا سراسر مجنونانہ فعل ہے۔فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ کے بار بار کے تکرار سے اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت خوابیدہ کو بیدار کیا ہے۔کیونکہ تکرار میں بھی ایک قوت مؤشرہ پائی جاتی ہے مصطفے پانی کا کنواں یا چشمہ نکالنے کے لئے کبھی پانچ یا دس ہاتھ کھدائی کرنی پڑتی ہے۔کبھی پندرہ یا ہیں ہاتھ کھدائی کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔اسی طرح انسانی فطرت کو بیدار کرنے کے لئے کبھی ایک دفعہ کی تلقین کافی ہو جاتی ہے۔کبھی دو دفعہ اور کبھی بار بار تکرار کی ضرورت پڑتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ شریفہ میں اس آیت کا اکتیس دفعہ تکرار کر کے ماہِ کامل کے ایام کی طرح مکمل طور پر فطرت انسانی کو ابھارنے کا طریق اختیار کیا ہے۔اور انسان کو رحمانی فیوض کے ماتحت نعماء کے لئے شکر ادا کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے۔اس موقع پر میں نے رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَ رَبُّ الْمَغْرِبَین کی تشریح کرتے ہوئے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ دو مشرقوں اور دو مغربوں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اولی اور بعثت ثانیہ حاشیہ دنیوی شاعر و ادیب بھی نظم و نثر میں بعض فقرات اور اشعار یا مصرعوں کو بار بار دہراتے ہیں۔تاکہ کوئی خاص مضمون مؤثر رنگ میں ذہن نشین ہو جائے۔