حیات قدسی — Page 346
۳۴۶ خلافت ترکی کی امداد کے لئے اجتماع اہلحدیث کانفرنس کے اختتام کے بعد بعض مسلمان لیڈروں نے کانپور میں پُر زور تحریک کی کہ ہم ہندی مسلمانوں پر بھی خلافت لڑکی کا حق ہے۔اس لئے ہمیں چاہیئے کہ اس کی امداد کے لئے چندہ جمع کر کے بھجوا ئیں۔چنانچہ تقریباً ایک لاکھ کے اجتماع میں مختلف لیڈروں نے تقاریر کیں اور چندہ کی تحریک کی۔ہم احمدی احباب بھی اس اجتماع کو دیکھنے کے لئے وہاں گئے۔تقریر کرنے والے علماء میں سے مولوی ابراہیم صاحب سیالکوٹی بھی تھے۔انہوں نے جب مجھے اس اجتماع میں دوسرے احمدیوں کی معیت میں دیکھا تو بلند آواز سے کہا کہ ” میں مولوی غلام رسول احمدی سے دریافت کرتا ہوں کہ کیا وہ بھی خلافت ٹرکی کے قائل ہیں ان کا اس عظیم الشان اجتماع میں سوال کرنے سے مقصد یہ تھا کہ احمدیوں کی تذلیل اور بدنامی کریں۔اور یہ ظاہر کریں کہ گویا جماعت احمد یہ خلافت لڑکی کی قائل نہ ہونے کی وجہ سے دوسرے مسلمانوں سے الگ اور قابل نفرت ہے۔میں نے اس موقع پر خاموش رہنا مناسب نہ سمجھا۔اور وہیں سے بآواز بلند کہا کہ ” خلافت اسلامیہ حقہ کا کون مسلمان قائل نہیں۔ہاں۔جناب مولوی صاحب! آپ اہل حدیث ہیں اور میں احمدی ہوں آپ کے نزدیک تو خلافت راشدہ کے تئیں سالہ دور کے بعد حکومت کا دور شروع ہو گیا ہے۔اور خلافت لڑکی کے جو لوگ قائل ہیں وہ بھی اس کو خلافت علی منہاج النبوت نہیں سمجھتے۔نہ فرقہ اہلحدیث کے مسلمان جن میں سے مولوی ابراہیم صاحب بھی ہیں اور نہ حنفی مسلمان اور نہ ہی اہل تشیع۔ہاں سب سے بڑھ کر خلافت علی منہاج النبوۃ کے قائل تو ہم احمدی مسلمان ہیں جن کا سلسلہ آج بھی خلافت حقہ پر قائم ہے“۔میرے اس جواب سے تمام مجمع میں خاموشی کا عالم طاری ہو گیا۔اور بعض لیڈروں نے مولوی صاحب کو کہا کہ آپ کو یہ سوال کرنے کی کیا ضرورت پڑی تھی۔ہمارا سارا کیا کرایا بر با دکر دیا ہے۔بعض نے کہا۔ایسا جواب اتنے بڑے مجمع میں اس جرات کے ساتھ دینا صرف احمدیوں کا کام ہے یہ لوگ تنگی تلوار ہیں۔حق کے اظہار سے نہیں ڈرتے۔بعض نے کہا کہ دنیا میں ترقی کرنے والی قو میں ایسی ہی ہوتی ہیں۔ان کا ہر فر د جس بات کو حق سمجھتا ہے اس کو بیان کرنے سے نہیں رکھتا۔