حیات قدسی — Page 284
۲۸۴ تھی جس میں دس گیارہ نفوس فروکش تھے۔اس مکان کے اردگرد بڑی بڑی پختہ عمارتیں زلزلہ سے زمین کے ساتھ پیوست ہو چکی تھیں اور ان کی اینٹیں ادھر اُدھر منتشر تھیں۔کھانے سے فارغ ہو کر اس دوست نے مجھے اپنا کچا مکان دکھایا اور اردگرد کی عظیم الشان عمارتوں کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ ہمارے اس مکان کا محفوظ رہنا خدا تعالیٰ کا عظیم الشان تصرف ہے۔اور اس کے اردگرد کی سر بفلک عمارتوں کا زمین کے ساتھ پیوست ہو جانا بھی کوئی اتفاقی حادثہ نہیں بلکہ ایک پُر ہیبت الہی نشان ہے۔جب ہم رات کو گھر کے سب افراد مرد، عورتیں اور بچے سوئے ہوئے تھے۔تو زلزلہ کا تباہی انگن جھٹکا لگا۔میں دروازے کی کھڑ کھڑاہٹ سے بیدار ہو گیا۔اور میں نے خیال کیا کہ شاید کسی بلی یا کتے نے دروزے کو ہلایا ہے۔اور اس سے زنجیر میں آواز پیدا ہوئی ہے۔اس کے بعد میں پھر سو گیا۔اور گھر کے دوسرے افراد بھی سوئے رہے۔صبح کے وقت بیدار ہونے پر جب ہم نے گھر سے باہر نکل کر اردگرد بر بادی دیکھی تو سخت افسوس ہوا۔ہمارے مکان کے گرد و پیش کی فلک بوس عمارتوں میں سے اگر کسی عمارت کا کوئی حصہ بھی جھٹکے سے ہمارے مکان کی طرف گرتا تو ہم سب اسی ملبہ کے نیچے دب کر مرجاتے۔لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ کوئی ملحقہ عمارت بھی ہمارے مکان کی طرف نہیں گری۔بلکہ مخالف سمت میں گرمی اور ہم محفوظ رہے۔چنانچہ میں نے بہت سے لوگوں کو بلایا۔اور انہیں عظیم الشان نشان دکھایا کہ کس طرح خدا تعالیٰ نے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک ادنے اور بے سروسامان غلام کو تباہی سے بچالیا۔اور ایسی حالت میں محفوظ رکھا جب کہ طبعی اسباب ہلاکت کے لئے چاروں طرف سے منہ کھولے ہوئے تھے۔فالحمد للہ رب العلمین مجلس صوفیاء میں ایک دفعہ میں نے رویا میں دیکھا کہ ایک مجلس میں مختلف صوفی بزرگ اپنا اپنا منظوم کلام پیش کر رہے ہیں۔اسی دوران میں مجھ سے خواہش کی گئی کہ میں بھی کچھ کہوں۔چنانچہ ذیل کا الہامی طور پر میری زبان پر جاری ہوا خبرم رسید امشب که نگار خواہی آمد سر من فدائے را ہے کہ سوار خواہی آمد