حیات قدسی — Page 285
۲۸۵ ہمہ آہو ان صحرا سر خود نهاد برکف بامید آنکه روزی به شکار خواہی آمد کشتے که عشق دارد نگذاردت بدینساں به جنازه گر نیائی به مزار خواہی آمد یہ اشعار غالبا امیر خسرو کے ہیں۔میں نے یہ رویا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں لکھا دی تھی حضور نے اس کو اخبار فاروق میں شائع فرما دیا۔اسی طرح ایک اور موقع پر بحالت رویا میری زبان پر یہ شعر جاری ہوا ے تجر ناز جب مقتل عاشق دیکھا بہہ چلا خون میرا خون شہیداں ہو کر زندگی کا رستہ ایک دفعہ میں کشمیر میں تبلیغی دورہ پر گیا۔جب پہاڑی سفر میں جگہ جگہ ہمیں نشیب و فراز سے واسطہ پڑا۔تو اس وقت مجھے خیال آیا کہ انسانی زندگی کا یہی حال ہے کبھی عروج ہوتا ہے کبھی زوال۔کبھی انسان بلندی پر چڑھ رہا ہوتا ہے اور کبھی پستی میں گر رہا ہوتا ہے۔کبھی اس کی زندگی الجھنوں میں گھری ہوئی ہوتی ہے اور کبھی آرام و سہولت کے میدان میں سے گذر رہی ہوتی ہے۔اس احساس کے ماتحت میں نے اس پہاڑی جنگل میں اپنے ساتھیوں کو دعا کی تحریک کی۔اور ہم سب نے اشکبار آنکھوں کے ساتھ بہت دعا کی۔اس دعا کے کچھ دن بعد اس عاجز کو الہام ہوا۔کہے دو گونه رنج و ملال است جان مجنوں را ملال فرقت لیلی , رنج قربت غیر اس الہامی کلام سے مجھے یہ بات سمجھ میں آئی کہ عبد سالک پر جب وہ مجاہدات سے منزلِ محبوب کے لئے کوشاں ہوتا ہے۔ایسی حالت بھی آتی ہے کہ ایک طرف اس کو اپنے نامکمل سلوک کی وجہ سے خدا تک رسائی نہیں ہوتی اور دوسری طرف دنیوی علائق سے پورے طور پر فراغت میسر نہیں آتی۔عام طور پر یہی حالت دیکھنے میں آتی ہے۔اور بہت ہی قلیل تعداد میں لوگ قرب و وصال کی لذت سے بہرہ ور ہوتے ہیں لیکن اس ناقص حالت کی ذمہ داری خود سالکوں پر ہے ورنہ