حیات قدسی

by Other Authors

Page 269 of 688

حیات قدسی — Page 269

۲۶۹ دعاؤں کو بھی شامل کرا لے۔میں نے اس کلام الہی سے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو اطلاع دیتے ہوئے حضور سے درخواست دعا کی۔حضور نے از راہ نوازش جناب مولوی عبد الرحیم صاحب درد کو جو اس وقت پرائیویٹ سیکرٹری تھے، یکصد روپیہ دے کر فرمایا کہ یہ رقم مولوی را جیکی صاحب کے گھر پہنچادی جائے۔حضور نے میرے عریضہ کے جواب میں جو خط گجرات کے پتہ پر ارسال فرمایا۔اس میں اس رقم کے عطا فرمانے کا تو کچھ ذکر نہ تھا۔ہاں یہ ارشاد تھا کہ انشاء اللہ تعالیٰ آپ کے لئے ضرور دعا کریں گے کہ اللہ تعالیٰ آپ کا قرضہ جلدا تا ر دے اے خوش آں جود کہ از خجلت وضع سائل لب به اظهار نیارند و به ایما بخشند! اس کے معاً بعد ایک صاحب کے متعلق مجھے معلوم ہوا کہ انہوں نے قادیان اور احمد آباد گاؤں میں زمین خریدی ہوئی ہے اور وہ اب وہاں مکان بھی بنانا چاہتے ہیں۔میں نے ان کو لکھا کہ میرا مکان ایک کنال میں تعمیر شدہ ہے۔اگر آپ کو پسند ہو تو آپ وہی خرید فرما لیں۔اس پر انہوں نے جواب دیا کہ مکان کی تو خود آپ کو بھی ضرورت ہوگی۔کیا کسی مجبوری اور ضرورت کی بنا پر آپ اسے فروخت کرنا چاہتے ہیں۔میں نے لکھا کہ ہاں فروخت کرنے کی ضرورت ہے۔کیونکہ اس کی تعمیر پر جو رقم خرچ ہوئی ہے اس میں سے ابھی مبلغ دو ہزار کے قریب قرض واجب الادا ہے۔اس اطلاع کے ملنے پر انہوں نے مجھے لکھا کہ میری پانچیز اروپیہ کی رقم بیت المال میں جمع ہے۔میں نے وہاں لکھ دیا ہے کہ جتنی رقم آپ کو قرض کی ادائیگی کے لئے درکار ہو ، وہ آپ کو ادا کر دی جائے۔چنانچہ میں نے محاسب صاحب سے تقریباً مبلغ اٹھارہ سو روپیہ کی رقم لے کر تمام قرضداروں کا حساب بے باق کر دیا اور اس مہربان دوست کو لکھا کہ میں نے آپ کی رقم سے متفرق رقوم قرضہ کی ادا کر دی ہیں۔اب خدا کرے کہ آپ کی رقم کو بھی جو بطور قرض میں نے یکمشت لی ہے، ادا کرنے کی توفیق ملے۔اس خط کے جواب میں اس دوست نے مجھے لکھا کہ میں نے آپ کو یہ رقم بطور قرضہ نہیں دی بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور ثواب کی خاطر دی ہے۔نیز انہوں نے مجھے اپنے تین مقاصد کے لئے دعا کی تحریک کی :۔