حیات قدسی

by Other Authors

Page 270 of 688

حیات قدسی — Page 270

۲۷۰ اول یہ کہ وہ افسر مال کے عہدہ پر فائز ہیں اور با وجود سینئر ہونے کے ان کو ترقی نہیں ملی اور جونیئر افسر ڈپٹی کمشنر بن گئے ہیں۔دوسرے ان کی خواہش ہے کہ ان کو خان بہادر کا خطاب مل جائے۔تیسرے ان کے ہاں نرینہ اولا د ہو۔میں نے ان کے تینوں مقاصد کے لئے دعاؤں کا سلسلہ شروع کیا۔اور ان کے احسان اور حسن سلوک کو پیش نظر رکھ کر دلی توجہ سے ان کے لئے دعا ئیں جاری رکھیں۔یہاں تک کہ میرے سامنے کشفی طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک کاغذ پیش کیا گیا۔جس میں لکھا ہوا تھا کہ وہ ڈپٹی کمشنر بنائے جائیں گے۔اور سب سے پہلے ان کا تقر ر ضلع گوجرانوالہ میں ہوگا۔( ان کو خان بہادر کا خطاب ملے گا۔اور ان کے ہاں لڑکا بھی تو تد ہوگا جس کا نام مجھے احمد خاں بتایا گیا۔اللہ تعالیٰ کی یہ عجیب قدرت احسان اور فضل ہے کہ اس پیش خبری کے عین مطابق وہ ڈپٹی کمشنر کے عہدہ پر فائز ہو گئے۔اور سب سے پہلے ان کا تقر ر ضلع گوجرانوالہ میں ہوا۔انہوں نے اس تقرری کے بعد مجھے لکھا کہ آپ کا اطلاعی خط میرے سامنے پڑا ہوا ہے اور میں اللہ تعالیٰ کے عَلامُ الْغُيُوب ہونے کا پر حیرت سے غور کر رہا ہوں۔پھر ان کو خان بہادر کا خطاب سرکار کی طرف سے دیا گیا۔اور یکم مئی ۱۹۴۹ء کو ان کے ہاں لڑکا بھی پیدا ہوا۔اور جس طرح بہت عرصہ پیشتر میں نے اس بچہ کا نام احمد خاں دیکھا تھا۔سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے حسن اتفاق تھا۔الثانی ایدہ اللہ عالی بنصرہ العزیز نے سے اس کا نام احمد خاں ہی تجویز فرمایا۔فالحمد للہ علی ذالک مجھے معلوم ہوا ہے کہ سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بھی ان کے لئے خاص طور پر دعا فرمائی تھی اور حضور کو بھی ان کے ہاں لڑکا تولد ہونے کی بشارت ملی تھی اور یہ حقیقت ہے کہ خاکسار یا کسی دوسرے احمدی دوست کو اگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے کسی الہامی بشارت سے نوازا جاتا ہے یا کسی دعا کی قبولیت کا شرف حاصل ہوتا ہے۔تو اس میں بھی ہماری کسی خوبی کا دخل نہیں۔بلکہ یہ سب فیض اور برکت اور کمال حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء عظام اور اہلبیت کا ہے ؎ جمال ہمنشیں در من اثر کرد وگرنہ من ہماں خاکم کہ ہستم اگر چہ میرے وہ محسن دوست یعنی خان بہادر ملک صاحب خانصاحب نون اس قرضہ کے