حیات قدسی — Page 263
۲۶۳ بسم الله الرحمن الرحيم - نحمده ونصلى على رسوله الكريم وعلى عبده المسيح الموعود حصہ چہارم خوارق کا وجود خوارق اور عجائبات عام طور پر ظہور پذیر نہیں ہوتے لیکن دنیا میں پائے ضرور جاتے ہیں۔ہمارے سید و مولیٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وحی میں خوارق کے متعلق اس طرح مذکور ہے :۔الْخَوَارِقُ تَحْتَ مُنْتَهَى صِدْقِ الْأَقْدَامِ كُنْ لِلَّهِ جَمِيعًا وَّ مَعَ اللَّهِ جَمِيعًا یعنی کرامات و خوارق اس موقع پر ظاہر ہوتے ہیں جو انتہائی درجہ صدق اقدام کا ہے۔تو سارا خدا کے لئے ہو جا اور سب کا سب خدا کے ساتھ ہو جا۔اس الہام سے ظاہر ہوتا ہے کہ خوارق کا ظہور اس وقت مومنوں کے ہاتھ پر ہوتا ہے۔جب وہ اپنے عقائد اور اعمال اور اخلاق کو مکمل طور پر شریعت کے سانچے میں ڈھال لیں اور نفسانیت کے ہر پہلو سے الگ ہو جا ئیں۔ان کا سارا وجود اور اس کا ذرہ ذرہ ہر پہلو سے خدا تعالیٰ کی رضا کے ماتحت ہو جائے۔اور ان کی زندگی کا ہر لمحہ اسی قدوس ذات کی معیت میں بسر ہو۔وہ شدید سے شدید ابتلاء اور امتحان کے وقت استقامت و استقلال اور صبر کا کامل نمونہ دکھا ئیں۔یہی صدق الاقدام ہے۔اور اسی کو تصوف کی اصطلاح میں فانی فی اللہ اور باقی باللہ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔کن لله جمیعا کے الفاظ سے فنا فی اللہ اور کن مع الله جمیعا کے فقرہ میں بقا باللہ کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے۔انسان کا قلب جب کامل خوف اور کامل محبت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف جھکتا ہے تو ایک طرف انسانی فطرت کے ظرف کو غیر اللہ سے خالی کیا جاتا ہے اور دوسری طرف قلب مطہر کو اللہ تعالیٰ کی قدوس ہستی کے نور کا مسکن بنایا جاتا ہے جلوۂ حسنت نہ گنجد در زمین و آسماں در حریم سینه حیرانم کہ چوں جا کرده