حیات قدسی

by Other Authors

Page 207 of 688

حیات قدسی — Page 207

۲۰۷ تو آپ نے اپنی دعوات خاصہ کے وعدہ کے ساتھ مجھے بہت تسلی دی کہ اللہ تعالیٰ سے بہت امید ہے کہ آپ صحتیاب ہو جائیں گے۔ان ہی ایام میں میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے سامنے ایک سمندر حائل ہے جس کو میں عبور کرنا چاہتا ہوں۔لیکن کوئی صورت اور رستہ میرے گزرنے کا نہیں ملتا۔میں اسی تر دڈ میں ہوں کہ اچانک میرے سامنے سیدنا حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظاہر ہوئے جس جگہ حضور مجھے نظر آتے ہیں وہ سمندر کا دوسرا کنارہ معلوم ہوتا ہے اور میں پہلے والے کنارے پر ہوں۔اس وقت میرا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فاصلہ بہت تھوڑ ا معلوم ہوتا ہے لیکن مجھے اس کو عبور کرنے کی ہمت نہیں پڑتی۔اس حالت میں کیا دیکھتا ہوں کہ آنحضرت صلعم نے اپنے وجود کو آگے بڑھا کر میرے قریب کیا اور مجھے اوپر سے دونوں بازوؤں سے پکڑ کر سمندر سے پار کر دیا۔یہ بشارت مجھے سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی دعوات خاصہ اور تسلی دلانے کے بعد مجھے نصیب ہوئی اور اس کے بعد میری حالت جلد جلد روبصحت ہوتی گئی۔خاموشی کا روزہ اس سے پہلے اسی بیماری کے دوران میں ایک دن سید نا حضرت الحمود ایدہ اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کے ہاتھ اس عاجز کو کبوتر کا پکا ہوا گوشت بھجوایا۔جس کے کھانے سے مجھے خاص طور پر فائدہ ہوا دوسرے دن حضور نے عند الملاقات مجھے فرمایا کہ میں نے کچھ کبوتر شکار کے ذریعہ پکڑے تھے۔جب میں کھانا کھانے بیٹھا ابھی ایک لقمہ ہی اٹھایا تھا کہ آپ یاد آ گئے اور اس خیال سے کہ کبوتر کا گوشت آپ کے لئے مفید رہے گا۔میں نے وہ کھانا آپ کو بھجوا دیا۔حضور کی اس شفقت اور غریب نوازی سے میرا قلب بہت متاثر ہوا۔اللہ تعالیٰ میرے پیارے محسنوں کو ایسی مہربانیوں کا بہترین اجر عطا فرمائے۔اسی طرح ایک دن آپ نے ازراہ نوازش مجھے یہ مشورہ دیا کہ میں کچھ دن بالکل خاموشی اختیار کروں شاید اس سے بیماری میں افاقہ ہو۔اسی رات میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک فرشتہ مجھے کہتا ہے کہ آپ تیس روز تک چپ یعنی سکوت کے روزے رکھیں تو بہت مفید ہوگا۔میں نے اس رویا کا ذکر بھی حضور کی خدمت میں کیا۔حضور نے فرمایا کہ اگر آپ چُپ کا روزہ رکھ سکتے ہیں تو اس میں کیا حرج ہے۔چنانچہ میں نے اپنی قیام گاہ پر سکوت کے روزے شروع کر دیئے اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے دروازہ پر ایک اعلان بھی لگا دیا کہ مولوی صاحب سے کوئی شخص گفتگو نہ کرے انہوں نے