حیات قدسی — Page 206
ایدہ اللہ تعالیٰ کو بلایا جو اس وقت لنگر خانہ کے افسر تھے اور ضیافت اور مہمان نوازی کے کام کے منتظم تھے۔آپ نے میری طرف اشارہ کر کے حضرت سید نا الحمود کو فرمایا کہ ان سے مجھے محبت ہے یہ بیمار ہیں۔میں نے علاج کے لئے انہیں اپنے پاس بلوایا ہے ان کے پر ہیزی کھانے کا انتظام میں نے گھر پر کیا تھا لیکن والدہ عبد الحئی کی طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے اب گھر میں انتظام مشکل ہے۔اس لئے آپ لنگر میں ان کے لئے پر ہیزی کھانے کا انتظام کر دیں۔چنانچہ ایک عرصہ تک میں سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زیر علاج رہا۔میری قیام گاہ ان دنوں سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پرانے مہمان خانہ کا وہ کمرہ تھا جو مغربی کوچہ کے بالکل متصل ہے اور جہاں ایک لمبا عرصہ تک حضرت اقدس علیہ السلام کے زمانہ میں عبد الحئی صاحب عرب، سید عبداللہ صاحب عرب اور ابوسعید صاحب عرب اکٹھے رہا کرتے تھے۔اور اس وجہ سے وہ عربوں والے کمرہ کہ کے نام سے شہرت پا گیا تھا۔سید نا حضرت خلیفہ مسیح اول کی وفات میں سید نا حضرت خلیفتہ المسیح اول کے زیر علاج ہی تھا کہ حضور اپنی آخری بیماری میں مبتلا ہوئے اور وہ مجسم شفقت اور دنیا کا بہت بڑا محسن و مہربان اور حکیم الامۃ وفات پا گیا۔إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ راجِعُون۔حضور کی وفات حضرت نواب محمد علی خاں صاحب کی کوٹھی میں ہوئی۔مجھے اس وقت شدید اعصابی دورہ تھا اور ایک دنبل کی وجہ سے جوزانو پر نکلا ہوا تھا چلنے پھرنے سے معذور تھا۔اس لئے اس موقع پر بوجہ مجبوری کوٹھی دار السلام نہ پہنچ سکا اور اکیلا ہی مہمان خانہ میں رہ گیا۔اس تنہائی کی حالت میں جب میں غمزدہ اور اشکبار تھا تو اچانک میرے کمرہ کی دائیں طرف سے زور سے آواز آئی کہ ”مولوی محمد علی بھی مر گئے یہ الفاظ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے تھے مولوی محمد علی صاحب کی اس بغاوت اور غذارانہ کاروائی کے متعلق تھے جو انہوں نے سیدنا حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی وصیت کی مخالفت اور خلافت ثانیہ سے انکار کی صورت میں کی اور یہ ان کی روحانی موت کے اظہار کے لئے تھے جو سید نا حضرت خلیفہ اول کے وصال کے ساتھ مقدر تھی۔سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی طرف سے تسلی حضرت خلیفہ امسیح اول کی وفات کے بعد جب حضرت سید نا محمود تخت خلافت پر مسند نشین ہوئے