حیات قدسی

by Other Authors

Page 107 of 688

حیات قدسی — Page 107

1+2 میں آسکتی ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جس قدر بھی اولیاء آپ کی امت میں پائے جاتے ہیں یا پائے جائیں گے وہ نہ آپ کی پیروی کے بغیر ولی ہوئے ہیں اور نہ ہوسکیں گے۔چنانچہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُوْلَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصَّدِيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِيْنَ ، وَ حُسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا 10۔اور اس کا بھی یہی مطلب ہے کہ مرتبہ ولایت رسول کی شریعت پر عمل کرنے کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔اور دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَلَا اِنَّ اَوْلِيَاءَ اللهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَاهُمْ يَحْزَنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا وَ كَانُوا يَتَّقُونَ۔11۔یعنی اس حقیقت سے آگاہ رہنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے اولیاء کوکسی قسم کا خوف اور حزن نہیں ہوتا اور ایسے اولیاء کی علامت یہ ہے کہ وہ اللہ اور رسول کی شریعت کے احکام پر سچے دل سے ایمان لاتے ہیں اور تقویٰ شعار ہوتے ہیں۔میرا یہ تشریح کرنا ہی تھا کہ سب مولوی صاحبان جوش سے اُٹھ کھڑے ہوئے اور چوہدری صاحبدا دکو کہنے لگے بتاؤ اب تمہیں کوئی اعتراض ہے۔چوہدری صاحبداد نے جب ان علماء کی یہ تعلی دیکھی تو اونچی آواز سے کہا چپ رہو! مرزائیوں کے فضلہ خوار و ! اگر احمدی مولوی صاحب یہ تشریح نه کرتے تو تمہارا علم تو لوگوں پر ظاہر ہو ہی گیا تھا۔القصيدة العربيه بالصنعة المتضادة ١٩٢٦ ء میں جب میں کراچی میں بسلسلہ تبلیغ مقیم تھا تو دوعربوں کے ساتھ تبلیغی گفتگو کا موقع میتر آیا۔جب میں نے ان کے سامنے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے معجزا نہ عربی کلام کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ عام طریق پر منظوم کلام تو اکثر اہل علم کہہ لیتے ہیں۔کیا حضرت مرزا صاحب نے کوئی غیر منقوطہ یا منقوطہ کلام بھی تحریر فرمایا ہے۔میں نے اس پر کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کلام تو اپنی فصاحت و بلاغت میں معجزانہ حیثیت رکھتا ہے اور اہل زبان بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔باقی رہا منقوطہ یا غیر منقوطہ کلام تو وہ حضور کے ادنی خدام بھی کہہ سکتے ہیں۔چنانچہ میں نے مندرجہ ذیل قصیدہ کہہ کر ان کے سامنے پیش کیا جس سے وہ بہت متحیر و متاثر ہوئے۔اس قصیدہ کے چند اشعار درج ذیل ہیں۔بِذِي الْفَيْض يُعِيتُ بِغَيْتِ فَيُضِ الهُ الكُـ الهُ الْكُلَّ عَمَّ لَهُ الْعَطَاء